قرآن مقدس اور نا سخ ومنسوخ

(مفتی)محمد رضا مر کزی،

مالیگاؤں

قرآن عظیم ایک اتھاہ ساگر ہے ۔۔دیکھنے میں محض ایک کتاب ہے مگر اس میں بے شمار علوم وفنون سموئے ہوئے ہے کہ جس تک رسائی عقل انسانی سے باہر ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہ اجمعین کے زمانے کے بعد اہل تحقیق نے اپنی اپنی بساط کے مطابق جب اپنا اپنا تحقیقی قلم دوڑایا تو قرآنی علوم کی مختلف قسمیں آشکار ہوئیں،اور آنلھیںحیرت سے پھٹی رہ گئی کہ کتاب تو ایک مگر اس میں علوم وفنون بے شمار۔انہیں علوم قرآنی میں سے ایک علم ’’ناسخ ومنسوخ‘‘کا ہے اور اس کا جاننا اتنا ضروری ہے کہ بغیر ناسخ ومنسوخ کے علم کے ایک مجتہد کے لئے احکام فقہیہ کا استخراج واستنباط نا ممکن ہے۔

          نسخ کے معنی:

          ایک معنی نقل کر دینا یعنی کسی تحریر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دینا ۔جیسے عرب کا مقولہ ہے ’’نسخت الکتاب‘‘ایک تحریر کو دوسری جگہ منتقل کر دیا۔اسی معنی میں یہ آیت قرآنی ہے۔’’انا کنا نستنسخ ما کنتم تعلمون‘‘یعنی وہ علم ہے جس کا تمہیں علم ہے ایک صحیفہ سے دوسرے صحیفہ کی طرف منتقل کر دیا ہم نے۔۔مگر قرآن میں نسخ کے معنی باطل کر دینا ہے اس طور پر کہ اس پر اب عمل نہیں کیا جا ئے گا۔جیسے بیوہ کی عدت کے بارے میں کہ پہلے ایک سال تھی پھر آیت ’’یتربصن با نفسھن اربعۃاشھرو عشرا‘‘نے اسے منسوخ کر کے بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن قرار دی ۔

          شرائط نسخ:

           شرائط نسخ کئی ہیں ۔ اول یہ کہ خطاب کے ساتھ ہو۔دوم یہ کہ منسوخ پہلے اور ناسخ بعد میں ہو۔واضح رہے کہ نسخ کے ذریعہ کسی حکم کو باطل کر کہ اس کی جگہ دوسرا حکم دینا بر بناء حکمت ہوتا ہے ۔

          اقسام نسخ:

          نسخ کی تین قسمیں ہیں ۔اول یہ کہ خط و حکم دونوں منسوخ ہوںجیسے حضرت ابن مالک روایت کرتے ہیں کہ پہلے ہم سورہ توبہ کے برابر ایک سورہ پڑھتے تھے جس کی اب ایک آیت یاد رہ گئی ہے اور وہ یہ ہے۔۔’’لو کان لابن آدم و ادیان من ذھب لا تبغی الیہ ثلاثاو لو ان لہ ثلاثا لا تبغی الیھا رابعاو لا یملاء جوف ابن آدم الاالتراب ویتوب اللہ علی من تاب‘‘یعنی اگر آدمی کے پاس سونے کے دو پہاڑ ہوتے توتیسرے کے فکر کرتااور تین ہوتے تو چوتھے کی طرف دوڑتا۔آدمی کا پیٹ قبر کی مٹی ہی بھرے گی اور جو کوئی توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔اس آیت کا حکم ،تلاوت اور تحریر منسوخ کر دئیے گئے ہیں ۔

          دوم خط اور تحریر منسوخ ہو مگر حکم باقی ہو ۔جیسے حضرت عمر سے مروی ہے کہ ہم ایک آیت پڑھتے تھے’’لا ترغبوا الرغبۃ(بمعنی الاعراض)عن ابآئکم‘‘یعنی اپنے والدین سے رغبت(نفرت اور گریز)نہ کرو۔دوسری آیت’’الشیخ والشیخۃاذا زینا فارجمواھماالبتۃنکالا من اللہ واللہ عزیز حکیم‘‘یعنی جب شادی شدہ مرد وعورت زنا میں مبتلا ہوں جائیں توانہیں رجم کرو۔۔ان دونوں آیتوں کی تحریر وتلاوت تو منسوخ ہے مگر حکم باقی ہے۔

          سوم خط اور تلاوت تو باقی ہو مگر حکم منسوخ ہو جیسے پہلے حکم تھا’’اینما تولوا فثما وجہ اللہ‘‘یعنی نماز میں جدھر چاہومنہ کر کہ نماز پڑھ لو ہر جانب قبلہ ہے۔پھر یہ منسوخ کر کہ بیت المقدس کو قبلہ بنایا گیا اور پہلا حکم منسوخ ہو گیا۔اس کا حکم تو منسوخ ہو گیا مگر تلاوت باقی ہے۔۔اور بعد میں ’’فول وجہک شطرالمسجد الحرام‘‘نے بیت المقدس کے قبلہ کو بھی منسوخ کر دیااور کعبہ کو قبلہ بنا دیا گیا۔

وہ سورتیں جن میں ناسخ ومنسوخ دونوں نہیں ہے:

          تینتالیس (۴۳)ہیں۔۔ سورہ فاتحہ،سورہ یوسف،سو رہ یسین،الحجرات،رحمن،الحدید،الصف،الجمعہ،تحریم ،ملک،الحاقہ،نوح ، جن،المرسلت،نبائ،النازعات،انفطار،المطففین،انشقاق،البروج ،الفجر،البلد،الشمس،اللیل،الضحی،الانشراح،التین،القلم ،القدر،لم یکن ، زلزال،العادیات،القارعہ،التکاثر،الہمزہ،قریش،الماعون،الکوثر،النصر،تبت یدا،اخلاص،الفلق،الناس۔۔

وہ سورتیں جن میں ناسخ ہے منسوخ نہیں :

          چھ ہی(۶)ہیں۔سورہ فتح،سورہ حشر،سورہ منافقون،سورہ تغابن ،سورہ طلاق،سبح اسم ربک الاعلی۔۔

وہ سورتیں جن میں منسوخ ہیں ناسخ نہیں :

          چالیس (۴۰)ہیں ۔۔الانعام ،الاعراف،یونس، ہود،رعد،الحجر،النحل،بنی اسرائیل،کہف،طہ،مومنون،النمل،قصص،عنکبوت،روم ،لقمان ، مضاجع،ملائکہ یعنی سورہ فاطر،الصافات، ص،زمر،زخرف،الدخان،جاثیہ،احقاف،سورہ محمد،ق،النجم،القمر،ممتحنہ،ن،معارج،قیامہ،دہر،عبس،الطارق،غا شیہ،التین ،الکافرون۔۔

وہ سورتیں جن میں ناسخ ومنسوخ دونوں ہیں :

          چوبیس(۲۴)ہیں۔۔سورہ بقرہ، آل عمران،نسائ،مائدہ ،انفال،توبہ ،ابراہیم ،مریم،انبیاء ،نور،حج،فرقان ،الشعرائ،الاحزاب ، مومن،شوری،الذاریات،طور ،واقعہ،مجادلہ،مزمل، مدثر،تکویر ،العصر ۔

Advertisements