بسم اللہ الرحمن الرحیم
مصطفیٰ جان رحمت پہ لا کھو ں سلا م
لتجدن اشد النا س عداوۃللذین امنوالیھودا   (القران الکریم)
ضرور پائیں گے آپ سب لوگوں سے زیادہ دشمنی رکھنے والے مومنوں سے یہود کو (سورۃ المائدہ  ۔۸۲)

  مسلما نو ں کے بد تر ین دشمن یہودی

(مفتی)محمد رضا مرکزی(مالیگاؤں)

قرآنِ کریم اور تاریخِ عالم کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہودیوں کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی انعامات سے نوازا تھا۔لیکن انہوںنے ان نعمتو ںکی ناقدری کی تو انسا نی قیادت ورہنمائی کی با گ ڈوران سے چھین لی گئی۔اس قوم نے اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر وںکو قتل کیا،کتاب الٰہی میں تحر یف کی، ان گھنا ونے جرائم کے نتیجہ میںان کو مختلف امراض میں مبتلا کر دیا گیا، یہی امراض ان یہو دیوں کی قومی خصوصیات بن گئے یعنی بز دلی، مجر ما نہ ذہن اور قساوتِ قلبی، نا شکری ، کذب، بہتان ترا شی، مکرو فریب اور دھوکہ دہی، مال کی پرستش اور حرام خوری، عہد شکنی وخیا ۲نت، تکبر وغرور،فسق وفجور، بے حیا ئی، سود خو ری اور ذلت و رسوائی،ان پرلگے قدرت کے ان بد نما داغوں کو دھو نے کے لیے یہو دیو ں نے پہلا نشا نہ مسیحیو ں کو پھر مسلما نوں کواوراس کے بعد سا ری انسا نیت کو بنا یا۔
سب سے پہلے ـــــــــ’’یہو دیت کی وجہ تسمیہ اورابتدائ‘‘ـ کے بارے میں جانکا ری حاصل کرتے ہیں اس لیے کہ آج یہو دیت کو سمجھنے کیلئے سب سے اہم چیز اِس نام کی ابتدااور اس کا وجود کہا ں سے اور کیوںہوا؟معلو م کرنا ضروری امرہے۔
یہود یت کی ابتدا اور وجہ تسمیہ
یہو دی ذہن کو سمجھنے کیلئے ہمیں تا ریخ کے ان واقعا ت کا از سرنو مطا لعہ کرنا ہو گا جو قر ون اولیٰ سے لیکر اب تک سلسلہ وار رو نماہوتے رہے ہیں۔اس سے ان کی عیسا ئیت کے سا تھ دشمنی کی تاریخی جھلک بھی دکھائی دے سکتی ہے ۔اور مسلمانوں سے عناد کے اسباب بھی سمجھ میں آسکتے ہیں۔ اور جدید تاریخ میں یورپ کے مختلف ممالک میں اُٹھنے والی تحریکوں سے ان کے مثبت اور منفی علائق کا بھی اظہار ہوسکتا ہے ۔
’’اسرائیل‘‘ یہود یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ نام ہمیں اللہ کی طرف سے عطا کیا گیا ہے۔ ’’اسرائیل‘‘کے لفظی معنی ’’خدا سے کُشتی کرنے والا‘‘ہے ،یہ معنی یہودیوں کی کتابِ مقدس (The Holy Sepulchre) کے جدید ترین ترجمے میں بتایاگیاہے جو جیوش پبلیکیشنزسوسائٹی آف امریکہ، ۱۹۵۴ء میں شائع کیا، اس نام کا ذکر کتابِ مقدس (Genesis) کے با ب۳۲ ؍ آیت۲۵؍ تا ۲۹؍ میں آیا ہے۔ عیسائیوں کی مترجم بائبل میں بھی یہ مضمون اسی طرح بیا ن ہوا ہے۔یہودی ترجمہ کے حاشیے میں ’’اسرائیل‘‘کے معنی یو ں لکھے گئے ہیں کہ (He who striveth with God)یعنی ’’وہ جو خدا سے زور آزمائی کرے‘‘ انسائیکلو پیڈیا ببلیکل لٹریچر میں عیسائی علما نے اسرائیل کے معنی (Wrestler with God)یعنی ’’خدا سے کشتی کرنے والا ‘‘لکھے ہیں ۔
آسمانی کتاب بائبل باب’’ہوسیع ۱۲؍ آیت ۴‘‘میں حضرت یعقوب کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے ۔’’کہ وہ اپنی جوانی کے زمانے میں خدا سے کشتی لڑا پھر فرشتے (حضرت)  جبرئیل سے کشتی کی اور غالب رہا ۔‘‘
یہودی روایات میں آیا ہے کہ ہمارے مورثِ اعلیٰ( حضرت) یعقوب سے اللہ تعالیٰ نے رات بھر کشتی لڑی جو صبح تک جاری رہا ۔ اللہ تعالیٰ پھر بھی اسے پچھاڑ نہ سکا ۔ جب صبح ہوگئی تو اللہ نے ان سے کہا ’’ اب مجھے جانے دو ‘‘ ۔ تو انہوں نے کہا میں تجھے اسوقت تک جانے نہ دوں گا جب تک تومجھے برکت نہ دے ۔ اللہ نے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یعقو ب ، اللہ نے فرمایا : آئندہ تیرا نام یعقوب نہیں اسرائیل ہوگا ۔ (بائبل، باب ہوسیع )
میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر وہ کیسا خدا تھا جو اپنے مد مقابل کے نام تک سے بے خبر تھا اور پھر کشتی لڑکر اپنے حریف سے شکست بھی کھا گیا ؟
عام لوگ بنی اسرائیل کے عروج کی تاریخ حضرت موسیٰ سے شروع کرتے ہیں لیکن قرآن مجید کی سورۃ المائدہ آیت ۲۰ میں ہے کہ ’’ ترجمہ کنزالایمان شریف ‘‘ ’’ اور جب موسیٰ نے کہا اپنی قوم سے اے میری قوم ! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو کہ تم میں سے پیغمبر کیے ، اور تمہیں بادشاہ کیا اور تمہیں وہ دیا جو آج سارے جہانوں میں کسی کو نہ دیا ، اے قوم اس پاک زمین میں داخل ہو جو اللہ نے تمہارے لئے لکھی ہے اور پیچھے نہ پلٹوکہ نقصان پر پلٹو گے ‘‘ ۔
اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کا اصل زمانۂ عروج حضرت موسیٰ کی بعثت سے پہلے گذر چکا تھا جسے خود حضرت موسیٰ اپنی قوم کے سامنے اس کے شاندار ماضی کی حیثیت سے پیش کرتے تھے ۔
انبیا میں سے کوئی بھی یہودی نہ تھا
اصل دین جو حضرت موسیٰ اور ان سے پہلے اور بعد کے انبیالائے تھے وہ تو اسلام ہی تھا ان انبیا میں سے کوئی بھی یہودی نہ تھا ۔ اور نہ ان کے زمانے میں یہودیت پیدا ہوئی تھی ، یہ مذہب اس نام کے ساتھ بعد کی پیدا وار ہے یہ اس خاندان کی طرف منسوب ہے جو حضرت یعقوب کے چھوٹے بیٹے ’’ یہودہ ‘‘ کی نسل سے تھا ، حضرت سلمان علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کی سلطنت دو ٹکڑوں میں بٹ گئی تو یہ خاندان اس ٹکڑے پر مشتمل ریاست کا مالک بن گیا جو ’’ یہودیہ ‘‘ کے نام سے موسوم ہوئی ۔ جبکہ بنی اسرائیل کے دوسرے قبیلوں نے اپنی الگ ریاست ’’سامریہ ‘‘ قائم کر لی۔ پھر اسیریا نے نہ صرف سامریہ کو تباہ وبرباد کر دیا بلکہ ان اسرائیلی قبیلوں کو بھی ملیا میٹ کردیا جو اس ریاست کے بانی تھے اس کے بعد صرف ’’ یہودہ ‘‘ اور اس کے ساتھ بن یامین کی نسل باقی رہے گئی ۔ جس پر یہودہ کی نسل کے غلبے کی وجہ سے یہودی کے الفاظ کا اطلاق ہونے لگا ۔ اس نسل کے اندر کاہنوں اور ربیوںاور احبار نے اپنے اپنے خیالات اور رجحانات کے مطابق جو عقائد و رسوم اور مذہبی ضوابط کا ڈھانچہ صدیوں میں تیار کیا تھا ، اس کا نام ’’ یہودیت ‘‘Judaimہے ۔ انگریزی لغت کے مطابق Judaim کے معنیٰ ہیں ۔ یہودی مذہب جو عہد نامہ عقیق اور تالمود کے ارشادات کے مطابق ہے ، جس میں ایک خدا پر عقیدہ اور یہودی شریعت کی پابندی لازم آتی ہے۔ اس لفظ کے ایک معنیٰ یہودیوں کے روایتی ، مذہبی اور اخلاقی عقائد و رسومات کے بھی ہیں ۔ الغرض قرآن مقدس میں بھی بارہا یہ واضح کرانے کی کوشش کی ہے کہ انبیاے سابقہ میں سے کوئی بھی یہودی نہیں تھے ۔ اور قرآن میں مسلمانوں کا سب سے بدترین دشمن یہودیوں کو ہی قرار دیا ہے ۔
یہودی ضدی اور ہٹ دھرم ہوتے ہیں
ایچ جی ویلز اپنی کتاب The Qutlcok For Homosapiens))میں لکھتا ہے ۔ ’’ ہمیں جاننا چاہیے کہ بائبل کا تربیت یافتہ یہودی سخت ضدی اور ہٹ دھرم ہے جس نے وکیلانہ استدلال کی تربیت پائی ہے ، عیسائیوں نے گھاٹے کا سودہ کیا ، لیکن اپنی بات پر اڑے رہے ، یہیں سے عرب قوم کی مصیبت کا آغاز ہوا ۔ ولیم شیکسپئر نے یہودیوں کی بے رحم ضد کو شائی لاک کی صورت میں دیکھا ، یہ یہودی آج بھی ’’ یہودہ ‘‘ ( جن کا تذکرہ پہلے ہو چکا ) کی جان لینے کے لیے یا ان کی جان واپس آنے کے لیے ’’ دیوارِ گریہ ‘‘ سے لپٹ کر اس وعدے کی تکمیل چاہتے ہیں جس سے اس نے مستقل طور پر انحراف کیا اور اب وہ برطانیہ کا سرکھا رہے کہ اعلان بالفور کی روشن امیدوں کو پروان چڑھا یا جائے اور یہودیت کااعلان سر عام کیا جائے ۔
فلسطین پر یہود کا دعویٰ مضحکہ خیز
ممتاز برطانوی مورخ الفرڈ جے ٹوائین بی فلسطین کی سر زمین یہودیوں کی ملکیت ہونے کے دعوے کو مضحکہ خیز اور احمقانہ دیتے ہوئے لکھتا ہے : ’’ اٹھارہ سو برس کے بعد یہ بات ہرگز نہیں کہی جاسکتی کہ فلسطین یہود کا وطن ہے ، ورنہ ریاست ہاے متحدہ امریکہ ریڈ ایڈینوں کی مملکت ہے ۔ اگر ایسی بات ہوتی تو برطانیہ اور دوسرے کئی ممالک کی صورتحال بالکل بدل جائے گی۔ میرے خیال میں یہود کا فلسطین پر بجز اس کے کوئی حق نہیں کہ وہ وہاں ذاتی جائداد خرید سکتے ہیں انہیں وہاں ریاست قائم کرنے کا کوئی حق نہیں ، کہ یہ بے حد بدنصیبی کی بات ہے کہ وہاں مذہب کی بنیاد پر ایک ریاست قائم کردی گئی ہے ۔ ‘‘
حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو زہر دے دیا گیا
جنگ خیبر کے وقت ایک یہودی عورت زینب بنت الحرث نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دعوت دی ۔ جسے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے منظور فرمالی ۔ اس نے ایک دنبہ ذبح کیا اور بھوننے سے پہلے اس نے حضور ﷺ سے پوچھا : آپ کونسا حصہ پسند فرمائیںگے ، آپ  ﷺ نے جواب دیا کہ : مجھے دست کا گوشت زیادہ پسند ہے : چنانچہ اس نے سارے دنبہ پر زہر چھڑکا اور دست کو خاص طور پر زہر آلود کیا ، دسترخوان پر بیٹھنے کے بعد آپ نے ایک لقمہ منہ میں ڈالا لیکن اسے نگلا نہ تھا کہ فرمایا : یہ گوشت مجھ سے کہتا ہے کہ اسے زہر آلود کیا گیا ہے چنانچہ آپ نے اس وقت اسے اگل دیا ۔ حضرت بشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن البرا نے بھی آپ کے ساتھ ایک ہی نوالہ لیا تھا ، لیکن وہ اسے نگل گئے اور شہید ہو گئے ، اپنی علالت کے آخری دنوں میں حضور ﷺ نے اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے فرمایا ، میرے پاس اُم بشر رضی اللہ عنہ آئی تھی اور میں نے اسے کہا تھا ’’ اُم بشر مجھے اس گوشت کی وجہ سے جو میں نے خیبر میں کھایا تھا شدید درد لاحق ہے اسی گوشت سے تیرا بھائی شہید ہوا تھا ۔ چنانچہ ایک روایت کے مطابق حضور ﷺ کا وصال اسی زہر کے اثر سے ہوا تھا ۔ خیبر کی ان شکستوں کے بعد یہودی بارگاہ ِ رسالت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ہم آدھی مسلمانوں کی زمین پرکھیتی باڑی کرنے کے لیے تیار ہیں اس کے بدلے میں ہمیں خیبر میں رہنے کی اجازت دے دی جائے ۔ آپ ﷺ نے یہودیوں کے معاندانہ ماضی کے باوجود ان کی درخواست منظور فرمالی ، باظاہر انہوں نے پُرامن شہری کے طور پر زندگی گزارنا شروع کردی ، لیکن اپنی فطرت سے بعض نہ آئے ، اور در پردہ اپنے مقاصد کی تکمیل میں مصروف رہے ۔ اور چھپ کر وار کرنے کے مواقع تلاش کرتے رہے ۔
ذرا غور کریں کے یہ قوم کتنی بزدل ہے کہ وہ اپنے جنگی کام کو بھی ایک عورت کے ذریعہ انجام دلوا رہے ہیں ۔ بتائو رسول اعظم  ﷺ کو زہر دینے والی عورت کون تھی ؟ ایک یہودن ہی تو تھی ۔ یہ ہے یہودیوں کی مسلمانوں سے دشمنی جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے بندوں سے کیا کہ ان یہودیوں سے بچے رہیں یہ تمہارے سب سے بدترین دشمن ہیں ۔
صلیبی جنگوں کے دوران یہودیوں کی انتہائی شر انگیزی
صلیبی جنگوں کے دور میں یہودیوں نے ایک عظیم مکروہ سازش کی جو یہ تھی کہ :
’’آنحضرت  ﷺ کے جسم اطہر کو روضئہ مبارک سے نکال کر کہیں پہنچا دیا جائے ۔ یا وہ کوئی اور ایسی حرکت کرنا چاہتے تھے جس سے مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچ سکے ۔ یہ نورالدین زنگی مرحوم ومغفور کا دور تھا ، مسلمان فوج جرمنی کے شہنشاہ کانرڈکی ۹ لاکھ افراد پر مشتمل فوج کے خلاف یروشلم میں نبرد آزما تھی کہ دو مسکین صورت باریش یہودی مدینہ منورہ کے نواح میں وارد ہوئے ، ان کی وضع قطع دیکھ کر کسی کو شبہ تک نہیں ہو سکتا تھا کہ عبادت وریاضت کے سوا بھی ان کا کوئی مقصد ہو سکتا ہے ۔ دن بھر یہ لوگ اللہ اللہ کرتے اور راتوں کو اپنے حجرے میں سرنگ کھودتے تاکہ روضۂ اطہر تک پہنچ سکیں ، یہاں تک کہ ان کی سرنگ روضہ مبارک کے بالکل قریب جا پہنچی ، ایک رات حضرت نورالدین زنگی کو خواب میں حضور ﷺ نے اس کی اطلاع دی ، وہ اگلے روز بہت پریشان ہوئے دوسرا دن بھی پریشانی میں گذرا ، تیسرے دن پھر وہی خواب آیا جس میں حضور ﷺ نے ان سے سختی کے ساتھ عمل کرنے کا تقاضہ کیا ۔ انہوں نے بیدار ہوتے ہی مدینہ منورہ کا رخ کیا ۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے شہر کا جائزہ لیا لیکن ہر چیز معمول پر پایا ۔ اب حضور ﷺ نے خواب میں ان یہودیوں کی شکلیں بھی انہیں ذہن نشین کرا دی ۔ دوسرے دن نورالدین زنگی نے مدینہ شہر کے باشندوں کی دعوت کا انتظام کیا اور حکم دیا کہ کوئی شخص بھی دعوت میں شرکت کئے بغیر نہ رہے ۔ حکم کے مطابق لوگ آتے گئے اور کھاتے چلے گئے ، مگر ان میں وہ دو شیطان صفت یہودی نظر نہ آئے اب نورالدین زنگی پھر پریشان ہوئے ۔ وہ آتے بھی کیسے ؟ انہیں تو اس کی اطلاع بھی نہ تھی ، ان میں سے ایک کھدال لے کر سرنگ میں اتر جاتا اور دوسرا پہرا دیتا اور ساتھ میں عبادت میں بھی مصروف رہتا تھا ۔ نورالدین زنگی نے منتظمین دعوت سے استفسار کیا کہ کوئی شخص شرکت سے رہے تو نہیں گیا ؟ ایک اہلکار نے کہا : آقا! پورا شہر تو آگیا ہے البتہ دو عابد وزاہد افراد شامل نہ ہو سکے ۔ کیونکہ وہ ہر وقت عبادت وریاضت میں مصروف رہتے ہیں ۔ انہیں کوئی دعوت اپنے ذکر الٰہی سے نہیں روک سکتی ۔ سلطان نے کہا ’’ سبحان اللہ ! کیا شان ہے ان کی ہم خود ان کی زیارت کریںگے ‘‘ ۔ چنانچہ ملازمین کے سروں پر مختلف کھانوں کے خوان اٹھوائے سلطان ان کی طرف روانہ ہو گیا ۔ وہ یہودی جو پہراداری کر رہا تھا دور سے اس کو نظر آیا کہ ایک چھوٹا سا قافلہ اس کی کٹیا کی طرف بڑا چلا آ رہا ہے ۔ اس نے جلدی سے اپنے ساتھی کو اوپر بلا لیا ، دیکھو اتنے لوگ ہماری جانب کیوں آرہے ہیں ؟ اتنے میں سلطان ان کے سر پر جا پہنچا ان کی شکلیں ہو بہو وہی تھیں ، جو خواب میں دکھائی گئی تھی ۔ نورالدین زنگی نے دونوں کی مشکیں کسوا دیں ، لوگ سناٹے میں آ گئے جب ان کی کٹیا کی تلاشی لی گئی تو بہ ظاہر کچھ دکھائی نہ دیا ۔ لیکن جب ان کا مصلا اٹھا کر دیکھا گیا تو اس کے نیچے سرنگ کا ایک دروازہ تھا ۔ ان کے رنگ جو پہلے فق تھے اب مزید پیلے ہو گئے ۔ سلطان نے بر سرے عام انہیں کوڑے لگوائے ۔ اب اقرارِ جرم کے سوا ان کے پاس کوئی راستہ نہ تھا ، سلطان نے انہیں موت کی سزا دی انہیں قتل کروا دیا اور ان کی لاشوں کو نذر آتش کر دیا گیا ۔ یوں وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچے ۔ آئندہ ایسی صورتِ حال کی پیش بندی کے لیے انہوں نے روضہ اقدس کے چاروں طرف سات دھاتوں کی گہری دیوار تعمیر کر دی ۔ جو آج تک ویسی کی ویسی ہے ۔
ایسا خوف ناک منصوبہ بنانے والوں کی پست ذہنیت یہود کے سوا اور کس کی ہو سکتی ہے؟ اور وہ عالم اسلام کی نفرت کے بجا طور پر مستحق ہیں ۔ ان کی اسی ذہنیت نے دنیا بھر میں انہیں ذلیل ورسوا کیا ۔ مسلمان ان سے جو نفرت کرتے ہیں وہ کسی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ خود نصارا بھی جو تاریخ کے بعض مرحلوں میں ان کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں ان سے نفرت کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکے ۔
یہودیوں کا دعویٰ غلط- کہ ارض فلسطین پر ہمارا پیدایشی حق ہے
تاریخی کتابوں میں القدس کا تذکرہ مختلف ناموں سے ہوتا ہے ، اس شہر کو پانچ ہزار سال قبل کنعانی عربوں نے آباد کیا اور اس کانام ’’ ارسلیم ‘‘ رکھا ۔ ’’ ار ‘‘ کا مطلب شہزاور ’’ سلیم ‘‘ کا مطلب امن ۔ اس نام کو دیگر فاتحین نے بر قرار رکھا ۔ یہودی اس کو ’’ یرو شلائم ‘‘ ، یونانی ’’ ہمرو سولیما ‘‘ اور مغربی دنیا ’’ یروشلم ‘‘ کہتی ہے ۔ ۱۲ ویں صدی قبل مسیح میں اسرائلیوں نے کنعانیوں پر حملہ کیا ۔ عرب قبائلی کنعانیوں نے اسرائلیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ اس وقت القدس کو ’’ پیوس ‘‘ کہا جاتا تھا ۔ ۹۹۷ قبل مسیح میں جب یہودی حضرت دائود علیہ السلام کے ساتھ اس شہر میں داخل ہوئے تو ، اس شہر کو شہر دائود سے منسوب کر دیا ۔ یہودیوں کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بھی اس شہر کا نام اہل فارس، اہل یونان اور اہل رومیوں میں انتہائی مقبول تھا ۔ کیونکہ یہ سب کے سب کبھی نہ کبھی اس شہر پر قبضہ کر چکے تھے ، ۱۲۵ قبل مسیح میں سلطنت روما نے اس شہر کو تہس نہس کر دیا ، بڑی تعداد میں اس شہر کے لوگوں کو بے گھر کر دیا گیا ۔ مال واسباب لوٹ لئے گئے ، اور اس شہر کا نام Aelia.Capitolina رکھا ۔ جس کا مطلب ہے ’’ خدا کا گھر ‘‘ ۔ اگرچہ رومن کالسٹٹساین نے اس شہر کا نام بدل دیا تھا ، لیکن عربوں میں یہ شہر القدس کے نام سے مشہور رہا ، جس کا مفہوم ہے ،  ’’شرک وکفر سے پاک شہر ‘‘ ۔
القدس انبیاے کرام کی سر زمین ہے اور مسلمانوں اور عیسائیوں اور یہودیوں کے نزدیک یکساں طور پر قابل احترام ہے ۔ اس سر زمین کو جن انبیاے کرام کا مسکن ہونے کا شرف حاصل ہے ، ان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت اسحاق علیہ السلام ، حضرت زکریا علیہ السلام ، اور حضرت صالح علیہ السلام کے اسماے گرامی قابل ذکر ہیں ۔ انبیا علیہم السلام کی تاریخ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا مرقد القدس اور مسجدِ ابراہیم کے درمیان واقع ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی یہاں سے گذری ، اور کشتی کے اندر غیب سے آواز آئی ’’ اے نوح یہ بیت المقدس ہے ابنیاء و مرسلین کا مولود ومسکن ‘‘ ۔ تاریخ کے اوراق اس بات کے بھی شاہد ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت………؟؟؟علیہ السلام نے یہاں بیت المقدس کی تعمیر کی اور وہ یہیںرہتے تھے ۔
اور جب ہم آج فلسطین کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں اپنی کوتاہی پر شرمندہ ہونا پڑھتا ہے ، آج فلسطین کی سر زمین بیت المقدس کے گلی کوچے خون میں نہائے ہوئے ہیں ۔ اس مقدس شہر کی تاریخ ایسی ہنگامہ آرائی اور معرکہ خیزیوں سے بھری پڑی ہے ۔ جس میں تین آسمانی مذاہب کے مقدس مقامات وآثار پائے جاتے ہیں ۔ اسی متبرک سرزمین کی بابت اس کے صحیح حق داروں اور اس کے چھوٹے دعویداروں کے درمیان ایک مستقل آویزش اور کشمکش چل رہی ہے ۔ طاغوتی قوتیں شب وروز اسے نقصان پہنچانے پر تُلی ہوئی ہے ۔ انہوں نے اسرائیل کو اپنا آلہ کا ر بنا کر اسلام کی مقدس ترین مسجد ’’ مسجد اقصیٰ ‘‘ کو نذر آتش کیا ، جس کا مقصد سواے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ بتدریج اس مقدس سرزمین سے اسلام اور مسلمانوں کا نام ونشان مٹا دیا جائے ۔
آج اسی بیت المقدس پر یہودی قابض ہیں ۔ مسجد اقصیٰ کے دروازے مسلمانوں کے لیے بند ہیں ،محراب ومنبر کی بے حرمتی ہو رہی ہے ۔ مسجدِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بلند بالا مینار اذان کی آواز کو ترس رہے ہیں ۔ مقامات مقدسہ کا احترام ختم ہو چکا ہے ، بیت المقدس کے صحن میں ظالم یہودی خون خرابہ کر رہے ہیں ۔ مسلمانوں کے قبل اول میں داخل ہونے والے مسلمانوں کو گولیوں سے چھلنی کیا جا رہا ہے ۔ اور آج فلسطین بیت المقدس کے در و دیوار ایک ’’سلطان صلاح الدین ایوبی رضی اللہ عنہ ‘‘ کا انتظار کر رہی ہے ۔
روے زمین پر پہلی یہودی حکومت
انقلاب فرانس سے قبل تقریباً سترہ سو سالوں بعد روے زمین پر پہلی یہودی حکومت بحر اٹلانٹک کے اس پار امریکہ میں قائم کی گئی۔ جو آج حکومت ریاست ہاے متحدہ امریکہ کہلاتی ہے۔ چوںکہ یہ ایک یہودی حکومت تھی اور امریکہ کا قیام یہودیوں کے مقصد اصلی سے پہلے کی ایک منزل تھی ۔ اس لیے اسے نیا بابل (New Bobylon) کے نام سے پکارا گیا ۔ امریکہ کے قیام کا مقصد اصلی اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ روے زمین سے خلافت اسلامیہ کا خاتمہ کر دیا جائے ۔ چنانچہ خلافت عثمانیہ کا خاتمہ اور فلسطینی عوام کی خون ریزی و فلسطین پر قبضہ کر کے مسجد ِ اقصیٰ اور قبہِ الضحرہ کو ڈھا کر ہیکل سلیمانی کی تعمیر کرنا اور عظیم اسرائیلی سلطنت قائم کرنا امریکہ کا مقصدِ وجود ہے ۔ اس لیے بالکل ابتدا سے اب تک امریکہ میں حکومت اور اس کے ہر نظام کی بنیادی ساخت ’’ یہودی فریمسن پروٹسٹنٹ ‘‘رہی ہے ۔ جسے کسی دوسرے تناظر میں ’’ Wasp White Anglo Saxon Protestant ‘‘ بھی کہتے ہیں ۔ ریاست ہاے متحدہ امریکہ کا قیام اسرائیل اور باضابطہ قیام حکومتِ دجال سے قبل کی ایک عبوری حکومت ہے اسلئے Gilyon The Hill  یعنی Capitol Hill دراصل علامت ہے M T Zion کی ۔ چونکہ امریکہ عیسائی ریاست نہیں بلکہ امریکہ ایک یہودی ریاست ہے ، یہی وجہ ہے کہ امریکہ کا سب سے بڑا سرکاری تہوار کرسمس نہیں بلکہ Thanksgivingجو در اصل Jewish Festiva lof Harvest of Suceoth کا دوسرا نام ہے ۔ چونکہ امریکہ یہودی ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ فریمسن توجیہ کی حامل یہودی ریاست بھی ہے ۔ الغرض روئے زمین پر سب سے پہلی یہودی ریاست امریکہ بنی ۔
یہودیوں کو اگر مسلمانوں نے نہ بچایا ہوتا تو……
ڈاکٹر عابد اللہ غازی نے اپنے ایک مقالے میں اس طرح رقم طراز ہیں ’’ ۶ اکتوبر ۲۰۰۲ء کے روز عیسائی پادری ’’ جیری فال ویل ‘‘ نے جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ایک انتہا پسند کہا تو اس سے نہ صرف تمام عالم اسلام کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی بلکہ عیسائیت اور مغرب کے خلاف نفرت کو بھی فروغ ملا ۔ اگر پادری جیری کا مقصد صرف یہی تھا کہ وہ اپنے مقصد میں اسی طرح کامیاب رہا جس طرح ماضی میں اس کے ہم خیال ’’ رابر ٹسن ، گراہم ، پائپ اور ایمرسن ‘‘ وغیرہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا یہ طوفان کئی سو س سے مل کر بنا ہے ۔ اس میں انتہا پسند عیسائی ، ہندو تو وادی ہندو اور صہیونیت نواز یہودی شامل ہیں جو اسلام کو اپنا متحدہ دشمن تصور کرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک مسلمانوں پر پر ظلم روا ہے اور ان کے لئے ہر گالی مناسب ہے ۔
آج عیسائی انتہا پسندوں نے صہیونی تنظیموں کے ساتھ اس وقت جو سانٹھ گانٹھ کر رکھی ہے اس کے پس پشت بائبل کی وہ پیشن گوئی ہے جس کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے ، اس عیسائی کی طرح مسلمان بھی اس میں یقین رکھتے ہیں ۔ لیکن عام عیسائیوں کے بر خلاف انتہا پسند عیسائی طاقت صہیونی طاقتوں یا اسرائیل کی حمایت اس لیے کر رہی ہے کہ بائبل کی یہ پیشن گوئی جلد از جلد پوری ہو جائے ۔ اس تعجیل میں فلسطینوں ( جن میں مسلما ن اور عیسائی دونوں شامل ہیں ) پر جو مظالم ہو رہے ہیں انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں وہ تو جلد از جلد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے خواہش مند ہیں ، جس کے لیے یہودیوں کا اسرائیل میں جمع ہونا ضروری ہے ۔ بنیاد پرست عیسائیوں کی اس خواہش نے فی الوقت انہیں صہیونی یہودیوں کا دوست بنا دیا ہے ۔ لیکن یہودی یہ بات بھول جاتے ہیں کہ عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں میں حق وباطل کی آخری معرکہ آرائی (Armageddon ) ہوگی ، اس میں ایک بار پھر یہودیوں کا قتل عام ہوگا اور دو تہائی یہودی مارے جائیں گے اور باقی جبراً عیسائی بنا لیے جائیں گے ۔ بائبل کی اس پیشن گوئی کے مطابق اس کے بعد ہی عیسائیت کا سورج اپنے نصف النہار تک پہنچے گا ۔ انتہاپسند عیسائی اس وقت یہودیوں کی مدد کرنے پر مجبور ہے ، کیونکہ بائبل کی پیشن گوئی پوری ہونے کے لیے یہودیوں کا اسرائیل میں اجتماع ضروری ہے ۔ جس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ہوگی ۔ تمام قوانین کا لعدم ہوجائیں گے اور یہودیوں کا قتل عام ہوگا ، گویا بھیڑوں کو ہانک کے قربان گاہ پر لایا جارہا ہے ۔ یہ بات عجیب ہی نہیں مضحکہ خیز بھی ہے کہ اتنے مخالف اور معاندانہ نظریات کے باجود انتہا پسند اسی عیسائی اور صہیونی یہودی مسلمانوں کے خلاف متحد ہو گئے ۔ اسی صدی میں جرمنی میں ۶۰ لاکھ یہودیوں کا قتل عام ہوا ۔ جس کے بعد یہودیوں کی نسل ختم ہو جاتی اگر مسلمان ممالک نے اپنی روا داری اور غیر جانب دارانہ پالیسیوں کی وجہ سے انہیں بچایا نہ ہوتا ۔ البتہ یہ بات مخفی نہیں کہ یہودیوں کی اس نسل کشی میں انتہا پسند عیسائیوں کا مخصوص جذبہ کام کر رہا تھا جس میں بدقسمتی سے آج بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ انتہا پسند عیسائی یہودیوں کے اس دوسرے قتل عام کا انتظار کر رہے ہیں بلکہ صحیح تر بات یہ ہے کہ وہ اس اس قدر بے تاب ہیں کہ شاید حضرت مسیح کی آمد کا بھی انتظار نہ کرے اور خود ہی اس کام کو انجام دینے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں ۔ ( ویوزنیٹ ورک )
اسلام کا یہودیوں کی سماجی اور اقتصادی حیثیت پر اثر
اسلام دین رحمت ہے۔معا دنیا کے تمام مذاہب کے لئے بھی رحمت ورافت کا دین ہے۔یہودیوں کے لئے بھی اسلام اپنے دامن میںمحبت ورافت کے پھول لے کر آیا تھاا س کی نظر میں یہودیوںکا دین تحریفات کے باوجودمشرکین کی اوہام پرستی اور بت پرستی کے مقابلے میںکہیں بہتر تھا۔اسلام نے یہودیوں کی مذہبی کتابوں کے منزل من اللہ ہونے کااقرار کیا تھا۔اسلام نے یہودیوں کی مقدس ہستیوں کے تقدس کی گواہی دی تھی۔بنی اسرائیل میں جو عظیم الشان انبیاورسل مبعوث ہوئے تھے اسلام ان کی عصمت کا نگہبان بن کر جلوہ گرہوا تھا۔ان مقدس ہستیوں پر جو کتابیں نازل ہوئیں تھیں اسلام نے اہنے پیروکاروں کو ان پر ایمان لاناضروری قرار دیا ہے۔ لیکن اسلام کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ یہودیوں کی ہر فکری بے راہ روی کو صحیح تسلیم کر کے اس کے جواز کا فتویٰ صادر کرتا۔اسلام تو ظلم کی تاریکی کو ختم کر کے عدل وانصاف کی شمع فروزاںکرنے کے لیے آیا تھا۔وہ اونچ نیچ کو ختم کر کہ انسانی مساوات کو قائم کرنے کے لیے تشریف لایا تھا،اس لیے اسلام نے جہاںصحف بنی اسرائیل کے سماوی الاصل ہونے کا اقرار کیا ہے وہیں یہ بھی اعلان کیا کہ یہودونصاریٰ نے ان صحف سماوی میںبے پناہ لفظی ومعنوی تحریفات کر ررکھی ہیں۔اس نے اعلان کیا کہ خداصرف یہودیوںاورنصرانیوںکا نہیں بلکہ ساری مخلوق کا خدا ہے۔اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے۔شراب کی ممانعت کا حکم صادر کیا ہے۔نا جائز طر ق سے طلب رزق کی تمام صورتو ں کو ختم کر دیا ہے۔جو لوگ غلط نظر یات کے بل بوتے ہر خدائی اختیارات کے مالک بنے بیٹھے تھے ان کو ان کے اختیارات سے محروم کیا۔یہودی عوام کواس حقیقت سے آگاہ کیا کہ تمہارے مذہبی راہنما تمہاری ملت کے کارواں کو ہدایت کے جادئہ مستقیم پر لے کر نہیں چل سکتے بلکہ وہ تمہیں اس راستے پر لے کر چل رہے ہیں جس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیںہے۔اسلام نے یہودیوں کو دعوت دی کہ وہ اس گمراہی کو چھوڑ کرحق کی روشنی کو اپنا راہنمابنائیںاور اس دین کے دامن میںپناہ لیں جوان کی کتابوں کی بھی تصدیق کرتا ہے اوران کے انبیاورسل کی بھی۔جودنیوی خوش حالی کی بھی ضمانت دیتا ہے اوراخروی سعادت کی بھی۔یہ پیغام محبت یہودیوں کواپنے باطل مزعومات کا دشمن نظر آیا۔سود کی حرمت اور شراب کی ممانعت کی شکل میں اسلام انہیںاپنے معا شی مفادات کا قاتل نظر آیا۔اسلام کی عادلانہ تعلیمات علماے یہود کواپنے جھوٹے اقتدارکے لیے خطرہ نظر آئیں۔یہودی نبوت کو صرف بنو اسرائیل کی میراث سمجھتے تھے اور حضور ﷺکو بنو اسما عیل میں سے تھے ان کی نبوت کو تسلیم کرنا ان کے قدیم مز عو مات باطل قراردینے کے مترادف تھا۔بات یہاں پر ختم نہیںہوئی بلکہ مشرکین عرب جو یہودیو ں کی تجار ت اورسودی کاروبار کے لیے منڈی کی حیثیت رکھتے تھے ۔انہوں نے دھڑا دھڑ اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔وہ لوگ طویل مدت تک یہودیوں کے ساتھ رہے تھے ۔وہ یہودیوں کے علمی اور تہذیبی مقام سے متاثر بھی تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے یہو دیت کو بطور دین قبول نہیں کیاتھا جب کہ آفتاب اسلام کے طلو ع ہوتے ہی اس کی روشنی کو بطور تحفہ قبول کر لیا۔اب ان کی نظر میںپسندیدہ ترین مذہب یہودیت نہیںاسلام تھا۔ان پر یہودیوںکا علمی رعب ختم ہو چکا تھا۔
اگر یہودی سود کی معاشرتی اور معاشی تباہ کاریوںکا صحیح اندازاہ لگا سکتے توسودکی ممانعت کے اسلامی حکم کو اپنے مفادات  کے خلاف تصور نہ کرتے ۔اگروہ شراب کے انسانی زندگی پرمنفی اثرات کا ادراک سکتے توشراب کی حرمت کاقانون متعارف کرانے پراسلام کو مطعون نہ کرتے۔اگرمعا شی اور معاشرتی ناہمواریوںکے قوموںکی زندگی پر مرتب ہونے والے تباہ کن اثرات کو وہ سمجھ سکتے تو اسلام کی مساوات انسانی کی حیات بخش تعلیم کو اپنے لیے مضر نہ سمجھتے۔لیکن بد قسمتی سے انہوں نے اسلام کی ان خوبیوں کو خامیاں سمجھااور اسلام کاہر سطح پر مقابلہ کرنے کا تہیہ کر لیا۔
بطن یہودیت سے نکلی ہوئی تحریک…تحریک استشراق
تعریف : استشراق کی جو تعر یف عام طور پر مشہور ہے وہ یہ ہے۔’’غیر مشرقی لوگوںکامشرقی زبانوں،تہذیب،فلسفے،اد ب اور مذہب کے مطا لعے میں مشغول ہونے کا نام استشراق ہے‘‘۔اس تعریف کی رو سے جو غیر مشرقی عالم،مشرقی علوم کے لئے اپنے آہ کو وقف کریگااسے’’ مستشرق‘‘ کہا جائے گا۔المنجد میں مستشرق کامفہوم یہ بتا یا گیا ہے’’العالم باللغات والاداب والعلوم الشرقیہ والاسم الاستشراق‘‘یعنی مشرقی زبانوں،آداب اور علوم کے عالم کو’’ مستشرق ‘‘کہا جاتا ہے اورا س کا نام’’ استشراق‘‘ ہے۔
تحریک استشراق کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔۔۔۔۔اہل مغرب بالعموم اور یہودو نصاریٰ با لخصوص،جو مشرقی اقوام خصوصا ملت اسلامیہ کے مذاہب،زبانوں۔تہذیب وتمدن،تاریخ،ادب، انسانی قدروں،ملی خصوصیات،وسائل حیات  اور امکا نا ت کا مطالعہ معروضی تحقیق کے لبادے میںاس غرض سے کرتے ہیں کہ ان اقوام کو اپنا ذہنی غلام بنا کر ان پر اپنا مذہب اور اپنی تہذیب مسلط کر سکیںاور ان پر سیاسی غلبہ حاصل کر کہ وسائل حیات کااستحصال کر سکیں ان کو’’مستشرقین ‘‘( مستشرقین کو انگریزی زبان میں’’Orientalism ‘‘ کہا جاتا ہے جا یوروپی زبان میں اٹھارہویں اور انتیسویں صدی میں رائج ہوا  روڈنسن کہتا ہے کہrientalism O استشراق کا لفظ انگریزی زبان میں۱۷۷۹ء میںداخل ہوا اور فرانس کی کلا سیکی لغت میں استشراق کے لفظ کا اندراج ۱۸۳۸ء میں ہوا۔)
یہودی اور تحریک استشراق
عموما تحریک استشراق کودنیا ئے عیسائیت کی ایک تنظیم تصور کیا جاتا ہے ۔ استشراق کے ذکر کے وقت یہودیت کی طرف ذہن بہت کم مائل ہوتا ہے ۔اس کی کئی وجوہات ہیں اورسب سے بڑی وجہ یہ  ہے کہ عیسا ئیوں اور یہودیوں کے باہمی تعلقات کی تاریخ رقابت،دشمنی اورایک دوسرے کے خلاف مظا لم  کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔عیسائیت کو اپنے ظہور کے ساتھ ہی جس قوم کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کر نا پڑاوہ یہودی ہی تھے۔یہودیوں نے عیسائیوں پر بے شمار مظالم ڈھائے اور جب عیسائیوں کو دنیا میں اقتدار حاصل ہوا توانہوں نے یہو دیو ں سے چن چن کر بدلے لئے۔ہٹلر نے جرمنی میں یہودیوں کے خون کی ندیاں بہا ئیں۔صلیبی لشکر،جو مسلما نوں کوصفحہ ہنستی سے مٹا نے کے لئے یوروپ سے روانہ ہوتے تھے۔وہ یہودیوں کو بھی معاف نہیں کرتے تھے۔جب اسپین مسلما نوں کے زیر نگیں تھا تو یہودی یوروپ کے پادریوں اور باد شاہو ں کے مظالم سے بچنے کے لئے مسلما نوں کی پناہ حا صل کرتے تھے۔ عیسائیت کے ساتھ یہودیت کی اس د شمنی کی تا ریخ کو دیکھ کریہ بات بڑی عجیب سی نظر آتی ہے کہ ایسے دو دشمن جن کی دشمنی ابھی ختم نہیں ہوئی وہ کسی تنظیم میں اکٹھا کام کر رہے ہیںلیکن حقیقت یہ ہیکہ استشراق کی تحریک میں جس طرح عیسائی سرگرم عمل نظر آتے ہیں اسی طرح بلکہ اس سے زیا دہ شدت کے ساتھ سر گرم عمل ہیں۔’’گولڈزیہر‘‘مشہور مستشرق ہے۔دوسرے مستشرق تحریک استشراق کے لئے اس کی کوششوں کی تعرف کرتے ہیں۔ اور اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس نے عربی علوم کے مطا لعے کو ایک نیا رنگ دیا ہے۔یہ شخص ایک یہودی تھا۔تحریک استشراق میںبے شمار لوگ ایسے  موجود ہیں جو در اصل یہودی تھے لیکن ان کی شہرت ایک یہودی عالم کے طور پر نہیں بلکہ صرف ایک مستشرق کے طور پرہو ئی۔
علی بن ابراہیم النملہ نے اپنی کتاب’’الا ستشراق فی الادبیات العربیہ ‘‘میں ایسے بائیس نام شمار کرائے ہیں جو یہودی تھے لیکن انہوں نے یہودی مستشرق کے طور پر نہیں بلکہ یوروپ یا اپنے متعلقہ مما لک کے حوالے سے اپنے کو متعا رف کرایا۔ان لوگوں میں گو لڈ زیہر کے علاوہ غروبنام،سیلمان مونک،ایڈورذغلازر، ا۔ی۔فنسنک،ڈیوڈ صموئیل،مارگو لیتھ،ا۔شا دہ کارل برو کلمان،لیفی برو فنسال،لوئی ماسیینون،جوزف شاخت،مکسیم روڈنسن اوربرنار ڈلوئس جیسے لوگ شامل ہیں جنہو ں نے تحریک استشراق کے کام کوآگے بڑھانے میں بڑا اہم کردار اداکیا۔
مندرجہ بالا تفصیلات کے مطالعہ سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ یہودی بھی استشراق کی تحریک میں عیسائیوں کی طرح پورے زور وشور سے شریک تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ تحریک استشراق کے مقاصد بعینہ وہی تھے جو یہودیوں کے تھے۔یہو دیوں کی تاریخ اسلام دشمنی سے بھری پڑی ہے۔ان کی اسلام دشمنی کورب قدوس نے خود ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔
لتجدن اشد الناس عدوۃ للذین امنوا الیھودوالذین اشرکوا۔۔(القران)
’’ضرور پائے گے آپ سب لوگوں سے زیادہ دشمنی رکھنے والے مومنوں سے یہود کواور مشرکوں کو‘‘(المائدۃ۔:۸۲)
اس لئے کہ جب یہو دیوں کو مسلمانوں کی مخالفت کے لئے ایک ایسا پلیٹ فارم ملا جو ان کے دشمن عیسایئوں نے قائم کیا تھاتو انہوں نے اسلام کے شجرہ طیبہ کی بیخ کنی کے لئے اپنے دشمنوں سے تعا ون کرنے میںہچکچا ہٹ محسوس نہیں کی۔سچ ہے مقولہ’’الکفر ملۃ واحدۃ‘‘ کہ سارا عالم کفر ملت واحدہ ہے۔ان میں باہم کتنی ہی دشمنیاں کیوں نہ ہو۔انہوں نے ایک دوسرے پر کتنے ہی مظالم کئے ہوں لیکن جب اسلام کی باری آتی ہے تو وہ سارے ایک جان ہو جاتے ہیں۔ اسلام دشمنی کے علاوہ یہودیوں کے تحر یک استشراق میں شامل ہونے کی ایک وجہ سیا سی بھی تھی۔ یہودی اپنے آپ کوشعب مختار سمجھتے تھے۔وہ خدا کی لاڈلی قوم ہونے کے زعم میں مبتلا تھے۔ان کے ہاتھوں میںاس وقت جو تورات ہے اس کی رو سے فلسطین سے لیکروادی فرات تک کے تمام علاقوںکو اہنی وراثت سمجھتے ہیں۔بلکہ ان کا مذہبی ادب بتاتاہے کہ وہ اللہ تعالی کی لاڈلی قوم ہیں اور ساری دنیا پروردگار نے ان کی خاطر تخلیق کی ہے ان کا دعوی فلسطین تک ہی نہیں بلکہ ان کی نظریں خیبر و مدینہ منورہ  پر بھی ہے۔
۱۹۶۸ء میںجب القدس پر یہودیوں نے قبضہ کیا تو اس وقت کا اسرائیلی وزیر دفاع’’موشے دایان‘‘یہودیوں کے حاخام اکبر’’شلو مو غورین‘‘کے ساتھ القدس میں داخل ہوا۔دیوار باق کے نزدیک نماز شکرانہ اداکرنے کے بعد اس نے کہاــ’’آج بابل اور یثرب جانے والے راستے کھل گئے ہیں‘‘اسرائیل کے سابقہ وزیر اعظم’’گولڈ امئر‘‘نے کیا تھا کہ’’میں خیبر میں اپنے آباو اجداد کی خو شبو  سو نگھ رہی ہو‘‘ایک مسلمان عورت کے لئے یہودیوں نے فلسطین میں رہنانا ممکن بنا دیا تو اس نے فلسطین سے سعودی عرب ہجرت کر کہ چلے جانے کا فیصلہ کیا جب وہ وہاں سے روانہ ہونے لگی توایک یہودی نے’’ھرتروغ‘‘اس سے کہا: شاہ فیصل سے ملا قات ہو تو اس سے کہہ دیناکہ ہم اس کی طر ف آرہے ہیں۔ہماری املاک اس کے قبضے میں ہیں ۔کعبہ کو ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔وہ ہماری ملکیت ہے اور ہم ہر صورت میں وہاں لوٹ کر آئیں گے۔
مستشرقین تقریباً سبھی اسلام اور مسلمانوں کے مخالف ہیں لیکن ان کی مخالفت میں مختلف افراد اور طبقات کے لحاظ سے کمی بیشی ہوتی رہتی ہے وہ مستشرقین جو اسلام کے خلاف تعصب میں سب سے آگے ہیں اور جنہوں نے اسلام کے خلاف ایسے ایسے افسانے گھڑے ہیں جن کی کوئی بنیاد نہیں ان میں یہودیوں کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔
آج کے عالمی حالات پر اگرایک اچٹتی سی نگاہ دوڑائیں تو اس بات میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ گو بہ ظاہر یہودی اسرائیل کی ایک سی ریاست کے مالک ہیں لیکن عملاً وہ اس وقت دنیا پر حکمرانی کررہے ہیں ۔دنیا کی مالیات پر ان کا قبضہ ہے۔الیکٹرانک میڈیا ان کے کنٹرول میں ہے۔امریکہ اسر اقوامِ متحدہ کا ادارہ ان کی مٹھی میں ہے۔دنیا بھر میں بے شمار روزنامے اور مجلے یہودیوں کے زیرِ تصرف ہیں اور یہودی اپنی دولت اور اپنے دیگر وسائل کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے جائز و ناجائز دونوں طریقے پر استعمال کرنے میں ماہر ہیں۔ـــــــــــــ
یہودیوں کی اسلام دشمنی کب سے شروع ہوئی؟
اسلام نے یہودو نصاریٰ کو عسکری میدانوں میں شکستیں دی تھیں عیسائیت اوریہودیت کے جزیرۂ عرب اور گرد ونواح میں پھیلنے کے جو واضح امکانا ت موجو د تھے اسلام نے ان کو ختم کردیا تھا۔بت پرستوں کے مقابلہ میں اہل کتاب ہونے کی وجہ سے یہود و نصاریٰ کو سماجی برتری حاصل تھی۔بت پرستوں کے مسلمان ہوجانے سے وہ بھی ختم ہوگئی ۔اہل کتاب کے علما اور راہبوں کو جو سماجی حیثیت حاصل تھی اور اس سماجی حیثیت کے سہارے وہ جس اقتصادی خوش حالی سے لطف اندوز ہورہے تھے اسلام نے اس کاخاتمہ کردیا تھا ،اسلام نے نہ صرف عرب و حجاز میں یہود و نصاریٰ کا وقا ر ختم کیا بل کہ ان سے کئی ممالک چھینے اور ممالک کے ساتھ ساتھ اس نکی عوام کی اکثریت کے دلوں کو بھی فتح کرلیا۔
یہودیوں نے اسلام دشمنی کا بیج اپنے دلوں میں اسی دن بو لیا تھا جب انھوں نے محسوس کیا تھا کہ نبوت و رسالت کا منصبِ اعظم بنو اسرائیل سے منتقل ہو کر بنو اسماعیل کے پاس چلا گیا ہے۔انھوں نے شجرِ اسلام کی بیخ کنی اسی دن سے شروع کردی تھیں ۔لیکن ان کی دشمنیاں جتنی شدید ہوتی گئیں اسلام کے شجرِ طیبہ کی جڑیں اتنی ہی مضبوط ہوتی گئیں ۔ان کی مسلسل ناکامیوں نے اسلام دشمنی کے اس پودے کو تناور درخت بنا دیا جس کا بیج طلوعِ اسلام کے ساتھ ہی ان کے دلوں میں بو دیا گیا تھا۔ان کے حسد،بغض،کینہ اور سفلہ پن کی اس وقت کوئی انتہا نہ رہی جب اسلام اس رنگ میں جلوہ گر ہوا جس کو پروردگارِ عالم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔
الم تر کیف ضرب اللہ مثلاً کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ اصلہا ثابۃ و فرعہا فی السمآئ۔ تؤتی اکلہا کل حین باذن ربہا ۔ویضرب اللہ الامثال للناس لعلہم یتذکرون۔(سورۃ ابراہیم آیت ۲۴/۲۵)
’’کیا تم نہ دیکھا اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی پاکیزہ بات کی ،جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم اور شاخیں آسمان میں ہیں،ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے کہیں وہ سمجھیں ۔‘‘(ترجمہ کنزالایمان)
یہ بات یہودیوں کے لیے کتنی تکلیف دہ تھی کہ اسلام کے جس پودے کو جڑوں سے اکھاڑپھینکنے کے لیے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگارہے تھے وہ ایک تناور درخت بن گیا تھا۔اسلام کو ختم کرنے کی انھوں نے اس وقت بھی کوششیں کیں جب مسلمانوں کو غیر مسلم طاقتیں کمزور سمجھتی تھیں۔انھوں نے اسلام کو خلاف سازشیں بھی کیں۔مسلمانوں کے خلاف انھوں نے مختلف حربے استعمال کیے۔اور جب انھوں نے ان سے بیت المقدس چھین لیا اور اس کے جھنڈے اسپین اور سسلی پر لہرا رہے ہیں اور اس کی فوجیں قلبِ یورپ کے دروازوں پر دستک دے رہی ہیںتو انھوں نے صلیبیں اپنے گلوں میں لٹکائیں اور تلواریں اپنے ہاتھوں میں لیے مسلمانوں کے مقابلے میں آگئے۔صلیبی جنگوں میں کئی صدیوں کی مسلسل ناکامیوں کے بعد انھوں نے صلیب اور تلوار ہاتھ سے رکھ دی اور قلم و کاغذ کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مصروفِ پیکار ہوگئے ۔جب ان کے تیار کردہ زہریلے لٹریچر نے مسلمانوں کو اپنے دین سے بیگانہ کردیا اور وہ کمزور ہوگئے تو یہی لوگ عادل اور رحم دل حکمرانوں کے روپ میں اسلامی ممالک میں چھا گئے انھوں نے مسلمانوں کو اپنے دین سے دور اور عیسائیت سے قریب کرنے کے لیے کتابیں لکھیں ۔اسکول اور کالج قائم کیے،اسپتال قائم کیے اور ان میں مریضوں کا مفت علاج کروانے کا ڈھونگ رچایا،خیراتی ادارے اور تنظیمیں قائم کیں،اور اپنے آپ کو دکھی انسانیت کا سب سے بڑا ہمدرد ظاہر کرکے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ صرف ان کا دلین ہی اپنے دامن میں دکھی انسانیت کے لیے نجات اور فلا ح کی خوش خبری لے کر دنیا میں جلوہ گر ہوا ہے۔یہودیوں نے اسپتالوں میں مریضوں کی جسمانی بیماری کا علاج کیا لیکن انھیں روحانی کمریض بنا دیا ،انھوں نے اسکولوں میں تعلیم کے نام پر بچوں کو جہالت کا درس دیا اور دکھی انسانیت کو ایمان کے بدلے چند سکے دے کر خوش کرنے کی کوشش کی، یہودیوں کا یہ طبقہ پہلے بھی مصروفِ عمل تھا اور آج بھی۔کبھی اس نے علانیہ مسلمانوں کو زہر کا پیالہ پلانے کی کوشش کی اور کبھی اسی زہر کو شہد میں ملا کر بڑی شفقت سے مسلمانوں کے سامنے رکھا،دشمنوں کے اس گروہ سے محتاط رہنا مسلمانوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
مسجدِ اقصیٰ کی شہادت اور ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر
پچھلے ڈھائی ہزار سال سے یہودی دنیا پر حکومت کر نے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔یہودی دانشوروں اور لیڈروں کا کہنا ہے کہ اب اس خواب کو عملی جامہ پہنا نے کا وقت آ چکا ہے۔اسرائیل کا قیام اس خواب کا پہلا قدم ہے۔ دوسرا قدم یروشلم اور مسجد اقصیٰ پر قبضہ کتنا تھا۔یہودیو ں کا ماننا ہے کہ اس جگہ پر ڈھائی ہزار سال  پہلے بہت ہی عظیم الشان سلیمانی مندر تھا۔یہ مندر جسے وہ ہیکل سلیمانی کہتے ہیں۔یہودیوں کی عظمت کی نشانی ہے۔اسے رومن بادشاہوں نے تباہ کر دیا تھا۔جب تک ہیکل سلیمانی دوبارہ تعمیر نہیں ہوگا دنیا میں یہودیوں کی بادشاہت قائم نہیں ہو سکتی۔اس ہیکل سلیمانی کو دبارہ تعمیر کرنا دنیا کے ہر یہودی کا خواب ہے۔دنیا کے یہودی اپنی دولت،صلاحیت اورطاقت اس ہیکل کی تعمیر پر صرف کرنے کے لئے تیار ہیں۔۱۹۶۸ء میں جب یہودیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تھا ،اس کے بعد سے وہ دن رات مسجد اقصیٰ کو شہید کر کہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنیکی سازشیں کر رہے ہیں۔اس سازش میں امریکی یہودی پیش پیش ہیںجو اس خواب پورا کرنے کے لئے اربوںڈالر خرچ کر رہے ہیں۔یہودیوں کا ماننا ہے کہ ہیکل سلیمانی آسمان سے اترے گااور پھر یہودیوں کی عظمت کا دور شروع ہوگا،جودو ہزار برس تک قائم رہے گا۔یہودی دنیا کی سب سے سپر پاور طاقت بن جائیں گے۔اس کے بعد قیامت آئے گی اور دنیا تباہ ہو جائیگی۔یہودی مذہبی رہنما،سیاست داں،بزنس مین اور دانشور سمجھتے ہیں کہ پچھلے ڈھائی ہزار برس میںیہودی اتنے طاقتورنہیں بنے جتنے کہ آج ہیں۔آج ان کا دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ پر قبضہ ہے۔ان کی دشمن طاقتیں پہلے جرمنی اور پھر روس تباہ ہو چکے ہیں۔اب ان کی تیسری دشمن بنی اسلامی دنیا،اسلامی دنیا کے سب سے بڑے مخالف یاسر ورفات اور صدام حسین مارے جا چکے ہیں۔عالم اسلام میں انتشار ہے،فلسطینی،فلسطینیوں کا خون بہا رہے ہیں،مسلمان ،شیعہ،سنی میں بٹ کرخانہ جنگی کا شکار ہیں اس لئے یہی سب سے بہتر موقع ہے کہ کسی بہانے مسجد اقصیٰ کو شہید کر دیا جائے۔یہودی مانتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ کی تباہی کے بعد ایک عظیم الشان ہیکل سلیمانی کا نقشہ آسمان پر ابھرے گااور مسجد کی جگہ لے لے گا۔اس مسجد کی تباہی کے ساتھ عرب دنیا سے مسلمانوں کا زبردست زوال شروع ہوگا اور اسرائیل ،مکہ،مدینہ سے لیکر مصر تک اپنا عظیم ترین اسرایئل بنانے کاخواب پورا کر لے گا۔تیل کی دو لت پر اس کا قبضہ ہو گا اور پھر وہ اپنے سائنسداں اور ماہرین کی مدد سے دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن جائے گا،اس کے لئے عیسائی دنیا اورہندو دنیا کی ضرورت ہو گی۔اس وقت یہودی وصیہونی تنظیمیں امریکہ،یوروپ،بھارت ،چین کواپنے جال میں پھانسنے کے لئے اربوں ڈالرخرچ کر رہے ہیں(ہندوستانی مسلمانوں سے نپٹنے کے لئے ہندو۔یہودی(اسرائیلی)اتحاد تو ہو ہی چکا ہے یہ اتحاد۲۰۰۶ء میں ہوا)ہر ملک کی میڈیا پر قبضہ کر رہے ہیں،یہ صیہونی پلان ہے جس کی تیاری یہودی دنیا پچھلے کئی سالوں سے کر رہی تھی آج مسجد اقصیٰ کے ارد گرد اس طرح کھدائی کی جا رہی ہے کہ اندر ہی اندر یہ مسجد کمزور ہو کر کسی بھی لمحہ زمین بوس ہو جائے اس مسجد کے گرتے ہی پوری دنیا میںہنگامے شروع ہو جائیں گے اس کا فائدہ اٹھا کر اسرائیلی فوج اس پورے علا قہ پر قبضہ کرلے گی اور پھر راتوںرات ہیکل سلیمانی کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔
آج یروشلم میں جو ہو رہا ہے وہ اچانک نہیں ہو رہا ہے۔ایک قدیم پلان کے تحت ہو رہا ہے اسرائیلی قیادت میں البتہ اس بات پر اختلاف ہے کہ اس منصوبہ پرعمل در آمد کا وقت آچکا ہے یا ابھی کچھ اور انتظار کی ضرورت ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع’’امیر پریٹز‘‘کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو ابھی انتظار کرنا چاہئے اور پہلے ایران،حزب اللہ اور شام کی حکومت کو ٹھکانے لگا نا چاہئے۔اسرائیلی فوج کے کمانڈرجنرل’’ایموسی گلاد‘‘کا ماننا ہے کہ اس وقت کاروائی سے دنیا کے مسلمان متحد ہو جا ئیں گیاور اس سے اسرائیل کیلئے دنیا کو شیعہ ۔سنی کیمپوں میں بانٹنے کاپلان فیل ہو جائیگا۔انہوں نے اسرائیل کے وزیر اعظم’’ایہوداولمرٹ‘‘ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کوگرانے کے پلان کو کم ازکم ایک سال کے لئے ملتوی کر دیں۔مگر عالمی یہودی تنظیمیں اور دنیا کے ارب پتی یہودی تاجر جو اس پلان کی تکمیل پر پچھلے سو برس سے دولت لٹا رہے  ہیںاب مزید انتظار نہیں کر سکتے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کا صحیح وقت ہے،اس سے عالم اسلام میں جو انتشار پیدا ہوگا اس کے نتیجہ میںامریکہ اور یوروپ پوری طاقت سے اسلامی دنیا پر حملہ کرنے ہر مجبور ہو جائیں گے۔عالمی رائے عامہ بھی اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے۔مسجد اقصیٰ کی شہادت سے عراق،ایران کا مسئلہ سیاسی نہیں مذہبی بن جائے گااور پوری دنیا کے غیر اسلامی ملکوں اور تہذیبوںکو متحد کر کہ اسلام کے خلاف جنگ چھڑی جا سکی گی۔ایسا لگتا ہے کہ فی الحال یہودی مسجد اقصیٰ کے گرد کھدائی کر کہ عالم اسلام کے رد عمل کو بھانپ رہے ہیں اگر رد عمل کمزور ہوتا ہے تووہ اپنی کاروائی جاری رکھیں گے اور رد عمل سخت ہوتا ہے تو وہ چند مہینوں کے لئے اپنہ کاروائی بند کر دیں گے تاکہ عال، اسلام میں اختلافات اور بڑھ جائیں۔ایران اور سعودی عرب میں جنگ چھڑ جائے،مسلمان مختلف فرقہ میں بٹ جائیں اور پھرموقع کا فائدہ اٹھا کراچانک مسجد اقصیٰ پر قبضہ کر لیا جائے اور یہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کے شیطانی خواب کو پورا کردیا جائے۔
مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میںیہودی معبدکا سنگِ بنیاد
آخر کا راسرائیل نے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں ایک کنیسہ کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھ ہی دیا ہے،عبرانی اخبار’’ہارٹیز‘‘ کی رپورٹ کیمطابق حکومت طویل عرصہ سے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں یہودی عبادت خانے پر غور کررہی تھی تاہم اب یوکرائن کے تعاون سے معبد کاباقاعدہ سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔مسجد اقصیٰ کے جنوبی دروانے کے قریب اور قبۃ الصخرہ سے چند میٹر کے فاصلے پر معبد ۴۴۱؍ مربع میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔جس میں مسجد اقصیٰ کے احاطے کا بھی بڑا حصہ شامل ہے ۔دوسری طرف ایک انتہا پسند یہودی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں معبد کی تعمیر ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی طرف ایک اہم قدم ہے ۔اس معبد کاسنگ بنیاد ۱۸؍ستمبر ۲۰۰۷ء میں رکھا گیا ہے اسی سے یہودی حضرات کی خفیہ مہمات کا جائزہ لیا جاسکتاہے۔کہ وہ مسجد اقصیٰ کو ڈھانے کے درپے ہیں ۔
یہودیوں کا تبلیغی مشن
پوپ نے عیسائیت کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ،اوراپنے مشن ـ ـــ’’ـــواٹیکن کو نسل‘‘کے نام سے ایک اعلی سطحی ادارہ قائم کیا ۔اس ادارے نے۶۵۔۱۹۶۲ کے طویل عرصے میں کچھ اجلا س منعقد کئے۔ان اجلا س کو مجمو عی طور پر ’’دوسری واٹیکن کو نسل‘‘کا نام دیا گیا۔جس نے نو سٹرا آئیٹ (Nostra Aetate) ہمارا دور نامی دستا ویز مرتب کی جو ان کے اہداف اور طریقہ کار پر روشنی ڈالتی ہے۔اس دستا ویزکو رومن کیتھولک چرچ کی با قا عدہ تعلیما ت کا ایک حصہ تسلیم کیا گیاہے ۔کیتھولک عیسائیوںنے ’’سکریڑیٹ فار نان کر سچن‘‘کے نا م سے ایک ارادہ قائم کیا جو اب’’یو نیفیکل فار انٹریچیس ڈائیلاگ‘‘ کہلا تی ہے ۔اس ادارے کا مقصد یہ ہے کہ اپنے فر قے کے لو گو ں کو دوسر ے اہل مذاہب کے ساتھ مکا لمے کی تعلیم و تر بیت دی جا ئے اور انکے لئے کتب، رسائل ،اور اخبا رات شا ئع کئے جائیں۔تاکہ ان تر بیت یا فتہ لو گوںکو مسلسل رہنما ئی،تازہ صو رتحال سے واقفیت اور امداد حاصل رہے۔انہو ں نے۱۹۶۹میں اپنے قواعد واصول شا ئع کئے ۔قا ہرہ سے مسلما نوں کا پہلا وفد ۱۹۷۰میں روم میں واقع سکریڑیٹ گیاتھا۔ نو سٹرا آئیٹ    نامی                    اعلا ن کے بعد مسلما نو ںاور عیسا ئیو ںکے درمیا ن یہ پہلا باقاعدہ آمنا سامنا تھا۔اگر چہ مسلما نو ںاور عیسا ئیو ں کے در میان مکا لمے کی تا ریخ بہت طویل ہے لیکن۱۹۷۰کا سال ان دونوں کے درمیان مکا لمے کی تاریخ کاایک اہم موڑ  ہے کئی سالوںپر محٰیط غور وخوض کے بعد’’ ورلڈ کو نسل آف چر چیز‘‘نے ۱۹۷۰میں دنیا میں پا ئے جا نے والے دوسرے مذاہب اور ادیا ن سے مکا لمے کا آغاز کیا ہے ا س کو نسل نے ایک سال بعد’’ زندہ مذاہب کے لو گو ں سے مکا لمہ‘‘کے نا م سے ایک یو نٹ قا ئم کی گئی۱۹۹۰میں یہ یو نٹ سکریڑیٹ آف ورلڈ کو نسل آف چر چیزمیں ضم کر دی گئی جو اب آفس داانٹرریجیس ریلیشنز(Office on the Inter Relagious Relations)کہلا تا ہے۔
ستر ہوی صدی عیسوی کے آغازمیں فرانس کے یہودی تبلیغی مشن شام پہونچے۔انھوں نے وہاں مدارس اور دوسرے تعلیمی ادارے قا ئم کئے۔انہوں نے کئی کتابیں بھی چھاپیں۔اس کے بعد امریکہ  بھی میدان میں آگیااور انہوں نے بھی اپنے تبلیغی مشن ممالک اسلا میہ میں بھیجنے شروع کر دئے۔کچھ عرصہ بعد جر منی اور برطا نیہ نے بھی فرانس اور امریکہ کی تقلید کی۔ان تبلیغی مشنوں کا نشا نہ پورا عالم اسلام تھا۔مختلف ممالک سے جو مشن وعالم اسلا م میں وارد ہوئے ان کے حا لات کے مطا لعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مشن صرف کنیسہ کی   کوششوں سے عالم اسلا م میں وارد نہیں ہوئے تھے بلکہ ان مشنوں کو بھجنے میں ان ممالک کی حکو متو ں کا بڑا دخل تھا۔یہی وجہ ہے کہ فرانس کا پہلا مشن شام میں کچھ عرصہ کام کرنے کے بعدمالی مجبوریوں کی وجہ سے واپس چلا گیا۔ لیکن امریکہ کے تبشیری مشن(یعنی وہ لوگ اسلامی شخصیتوں اوران کے کردار پر بحث کریں)شام پہنچے تو فرانس کو دوبارہ اپنا مشن شام بھیجنا پڑاکیونکہ وہ امریکہ کے لئے میدان خالی نہیں چھوڑسکتے تھے۔ممالک ماسلامیہ میں جو یہودی مشن معروف عمل تھے انکا تعلق مختلف ممالک سے تھاان ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے تھے اور ان مشنوں میں یہودیو ںکے مختلف فرقوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتیں موجود تھیںاس لئے اسلامی ممالک میںوہ ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کے کو ششوںمصروف تھے۔
ڈاکٹر محمد ابراہیم الفیومی نے اپنی کتاب ’’۔الاستشراقـ فی رسالہ الا ستعمار‘‘ ۔میںاان تبلیغی مشنوں کے حا لا ت بڑی تفصیل سے لکھے ہیں وہ اہل مغرب کے روئیے سے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔’’اہل مغرب اپنے ممالک میںمذہب کے خلاف مصروف پیکار ہیں لیکن وہی لوگ یہودی مبلیغین کوممالک اسلا میہ کے طول وعرض میںیہودیت کی تبلیغ کے لئے بھجتے ہیں‘‘۔
ــیہودیوں نے انڈونیشیا ء کو اپنی تبلیغی سرگر میوں کے لئے خصوصی طور پر منتخب کیا۔یہاں ان کی شروعات۱۵۰۰ء سے شروع ہوئی جب ہرتگا لیوں نے ان جزائر پر قدم رکھا تھا۔ان کی کوششیں زور وشور سے جاری رہیںحتی کہ انہوں نے ۱۹۶۷ء میں’’مالانج ‘‘کے شہرمیں ایک کانفرنس منعقد جس میںفیصلہ کیا گیا کہ جزیرہ  جاوہ کے مسلما نوں کویہودی بنانے کا کام ۲۰ سال میں کیا جائے اس وقت جزیرئے جاوہ میں ۶۵ملین مسلمان آباد تھے اسی کا نفرنس میں پورے انڈونیشیا ء کے(۱۳۰۰ ) تیرہ ہزارسے لیکرتیرہ کرور مسلمانوں کو یہودیبنانے کے لئے۵۰سا ل کا ہدف مقررکیا گیا۔یہودی ممالک کی بے پناہ امدادکی وجہ سے انڈونیشیا ء میں  یہودی مشن کاطوفان جس انداز سے پھیلااس کا اندازہ اس بات سے لگائے کہ۱۹۷۵ء میں’’یہوداکونسل آف انڈونیشیائ‘‘کے اعداد وشمار کے مطابق اس ملک میںگرجے،۳۸۹۷پادری اور۸۵۰۴جز وقتی مبلغ تھے۔
لیکن جس یہودیت کوپھیلا نا چاہتے تھے اسکی تعلیمات میں اتنی جان نہیں تھی کہ وہ؎کسی سلیم الفطرت اور عقل سلیم رکھنے والے انسان اپنی طرف مائل کر سکیںاور اس کی کمی کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے جو حربے استعمال کئے ان کا اثر دل تک نہیں پہنچ سکتا تھا ۔کیونکہ      ؎
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
جتنا  ہی  دبائو   گے   اتنا  ہی  ابھرے  گا
حکو متی اور تجارتی اداروں سے یہودیوں کا رابطہ
یہودیوں نے مما لک اسلامیہ میںمختلف ناموں کی تنظیموں کے تحت جتنی کاروائیاں کیں ان کے مقاصد ایک ہی تھے لیکن چونکہ انہوں نے مختلف بھیس بدلے ہوئے تھے اس لئے عموماً لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اہل مغرب کی مختلف تنظیمیں مختلف مقاصد کے تحت سر گرم عمل رہی ہیں۔لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی علم کا پیاساتھا جو علم کی پیا س بجھانے کے لئے مشرق کے کونے کونے میں پھرتا رہا،کوئی تاجر تھا جو اپنی تجارتی سر گرمیوں کو وسعت دینے کے لئے نئے امکانات کی تلاش میں تھا۔کچھ لوگ وہ تھے مذہب کا جھنڈا اکناف عالم میں لہراناچاہتے تھے اور اس جذبے کے تحت مشرق خصوصاً ممالک اسلامیہ میں سر گرم عمل تھے۔کچھ لوگ وہ تھے جو ممالک اسلامیہ کو اہنے سیاسی تسلط میں لانے کے لئے تدیریں سوچ رہے تھے یہ سب لوگ اپنے اپنے میدان میں سر گرم عمل تھے اور ان کا کوئی باہمی تعلق نہ تھا۔
لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے ان مختلف مقاصد کے حامل لوگ مشرق میں با لکل یک جان تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ انفرادی طور پر ان میں سے کوئی تنظیم بھی تنہا اپنے مقاصد حا صل نہ کر سکتی تھی سیا ستدانوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنے قد م ان ممالک میں جمانے سے پہلے ایسا بھیس بدلیں جو مقا می لوگوں کے دلوں میں نہ کھٹکے۔علمی کام کرنے والوں اورتبلیغی فریضہ انجام دینے والوں کے لئے ضروری تھا کہ انہیں ایسے لوگوں کاتعاون حاصل ہو جو ان کی مالی معاونت بھی کریں اور انہیں تحفظ بھی فراہم کرے۔اجنبی علاقوں میں اپنی تجارت کو وسعت دینے والے بھی دوسر و ں سے بے نیاز نہیں ہو سکتے تھے۔ اس لئے وہ سب یک جان ہوگئے۔
جو لوگ یہودیت کا جھنڈاسا ری دنیا پر لہرانا چاہتے تھے انہیں اس صورت حال سے بہت   فائدہ پہنچا۔مغربی حکو متوں نے بھی ان کے ساتھ دل کھول کرساتھ دیا اور سرمایہ داروں نے بھی دل کھول کر تعاون کیا۔یہودیوں نے مغربی ممالک میں جو بے شمار اسکول،ہسپتال،ڈسپنسریاں اورخیراتی ادار ے       قائم کئے جو اس بات دلیل ہیں کہ ان پشت پناہی ان کی حکو متیں کر رہی ہیں ۔واسکوڈی گاما(کہا جاتا ہے کہ واسکوڈی گاما نے سب سے پہلے بحری راستے سے ہندوستان دریافت کیا یہ غلط ہے بلکہ مسلمانو ں نے دریافت کیا جب واسکوڈی گا ما ہندوستان پہنچا تو اسے مسلمانوں کی جماعت دکھائی     دی)نے۱۴۹۸ء میں اہل مغرب کے لئے ہندوستان کا راستہ دریافت کیا۔اس کے بعدپرتگالیوں نے اپنی اس سلطنت کی بنیادیںرکھناشروع کر دیں جس کی حدیں مالقہ سے ہندوستان اور سیلون کی پھیلی ہوئی تھیں۔ان حکمرانوں کے بعد پرتگا لی تاجر آئے جنہوں نے اپنے حکمرانوںکی پشت پناہی میں مشرقی تاجروں کا مقابلہ کیا،ان کے بعد یہودی آئے اور انہوں نے اپنی حکومتوں کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں   شروع کیں۔

Advertisements