Tags

,

نامِ مبارک ﷺ کی تعظیم کا حکم

(مفتی ) محمد رضا مرکزی (مالیگاؤں)

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالاکردے
دہر میں عشقِ محمد سے اجالاکردے
جس طرح حضور انور ﷺ کی مقدس ترین ذات کی تعظیم و توقیر ایمان و اسلام کا تقاضا ہے ، اسی طرح حضور انور ﷺ کے نامِ پاک کی تعظیم و توقیر کا بھی حکم وارد ہوا ہے۔ جیسا کہ صاحبِ کنزالعمال نے نامِ پاک کی تعظیم و تکریم کے تعلق سے چند حدیثیں نقل فرمائی ہیں۔
حضرت بزار سے مروی ہے حضرت ابورافع سے انھوں نے کہا کہ حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم اپنے بچّے کا نام محمد رکھو تو اسے مارو مت اور اسے محروم نہ کرو۔
حضرت مولاے کائنات علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے منقول ہے کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے بچّے کانام محمد رکھو تو اس کی تعظیم و توقیر کرو اور وہ جس مجلس میں جائے اس کے لیے بیٹھنے کی جگہ دو۔
حضرت دیلمی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم اپنے بچّے کانام محمدرکھو تو اسے محروم مت کرو کیوں کہ محمد نام میں بڑی برکت دی گئی ہے یہاں تک کہ اس گھر میں برکت دی گئی ہے جس گھر میں محمد نام کا شخص رہتا ہے۔
مندرجہ بالاایمان افروز روایتوں سے ثابت ہوتاہے کہ نامِ مبارک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعطیم و توقیر کے ساتھ ساتھ نام والے کا بھی ادب واحترام کرنا چاہیے ۔ جب محض محمد نام کے فرد کی عزت و تکریم کرنے کے تعلق سے احادیث میں حکم فرمایا گیا ہے تو ذاتِ اقدس و اطہر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاادب و احترام اور تعظیم و توقیر بدرجۂ اولیٰ کرنا چاہیے ۔ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و احترام کے بارے میں رب العزت جل و علا یوں ارشاد فرماتا ہے : وتعزروہ وتوقروہ وتسبحوہ بکرۃ واصیلا۔ (اس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام پاکی بیان کرو)
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ محبوبِ کردگار ، مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے نامِ پاک اور ذاتِ پاک کی تعظیم توقیر کو اپنی زندگی کالازمی حصہ بنالیں کہ نامِ پاک کی تعظیم سے اللہ رب العزت خوش ہوتا ہے اور اپنے بندوں کو انعامات و اعزازات سے نوازتا ہے چناں چہ ابو نعیم نے حلیہ میں حضرت وہب بن منبہ سےایک ایمان افروز واقعہ نقل فرمایا ہے۔ کہ بنی اسرائیل میں ایک نہایت ہی بدکار شخص تھا اس نے سو برس تک خداے قدیر وجبار کی ایسی ایسی نافرمانیاں کیں اور مخلوقِ خدا پر ایسے ایسے ظلم وستم ڈھائے کہ لوگ اس سے نفرت کرنے لگے جب اس کا انتقال ہوا تو لوگوں نے اس کے ظلم اور بدکاریوں کی وجہ سے اسے اس لائق ہی نہیں سمجھا کہ اسے دفن کیا جائے چناں چہ نہایت ہی نفرت و حقارت کے ساتھ لوگوں نے اس کی لاش کو کوڑے خانے میں پھینک دیا جہاں پر گاؤں بھر کی غلاظت ڈالی جاتی تھی۔
یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ تھا خداے تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ فلاں گاؤں کے کوڑے دان میں ایک شخص کی لاش پڑی ہے اسے وہاں سے اٹھا کر فوراً عزت و احترام کے ساتھ کسی قبرستان میں دفن کردو۔ وہاں پہنچنے کے بعد لوگوں کے ذریعہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس کی بدکاریوں اور ظلم و ستم کی تفصیل معلوم ہوئی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ یااللہ! سو برس کی طویل مدت سے یہ شخص تیری نافرمانی میں مبتلا رہا یہ اپنے زمانے کا بدترین شخص ہے یہ کسی عزت و تکریم کے لائق نہیں ہے۔ ارشاد خداوندی ہواکہ لوگ سچ کہتے ہیں یہ بدکار اور ظالم شخص ہے لیکن اس کی صرف ایک خوبی کی وجہ سے میں نے اس کے سارے گناہوں کو بخش دیا ہے یہ جب بھی توریت کھولتا تھا تو نامِ مبارک محمد (ﷺ) کو بوسہ دیتا اور اپنی آنکھوں سے لگاتا۔
صرف نامِ مبارک کی تعظیم و توقیر سے اللہ رب العزت جل جلالہ اپنے ایک ایسے نافرمان بندے کی مغفرت فرمادیتا ہے جو زندگی بھر اس کی نافرمانی میں مبتلا رہا تو وہ افراد کس قدر خوش نصیب اور قسمت والے ہیں جونامِ پاک کی عزت و تکریم کے ساتھ ساتھ ذاتِ نبوی علیٰ صاحبہا الصلاۃ و التسلیم کی تعظیم و توقیر ایمان و اسلام کا لازمی جز سمجھتے ہوئے احترامِ نبوت کواپنی زندگی کا محبوب ترین فعل تصور کرتے ہیں ۔
سوچیے تو سہی! جب گذشتہ امت کے افراد کو اللہ رب العزت نامِ مبارک کی تعظیم وتوقیر کے سبب اس درجہ فضیلت سے سرفراز فرمائے تو ہم غلاموں اور محبوبِ خاص ، خلاصۂ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اللہ کی رحمتِ بے کراں سے بہت زیادہ توقع رکھنی چاہیے ، ہمیں چاہیے کہ اگر نامِ مبارک کو دیکھ اور سن کر کبھی انگلیوں کا بوسہ نہ بھی لیں تو اتنا ضرور کریں کہ رسولِ مختار صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالیہ میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کریں ، اگر انگلیوں کا بوسہ لیں تو یہ سونے پر سہاگہ۔
(کنزالایمان ، دہلی نومبر 2003ءص22)

Advertisements