حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 خلیفۂ سوم امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ”ابوعمرو” اور لقب ”ذوالنورین”(دونوروالے)ہے۔ آپ قریشی ہیں اورآپ کا نسب نامہ یہ ہے: عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف۔ آپ کاخاندانی شجرہ ”عبد مناف”پر رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے نسب نامہ سے مل جاتاہے ۔ آپ نے آغاز اسلام ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا اورآپ کو آپ کے چچا اوردوسرے خاندانی کافروں نے مسلمان ہوجانے کی و جہ سے بے حد ستایا۔ آپ نے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی ا س لئے آپ ”صاحب الہجرتین” (دو ہجرتوں والے)کہلاتے ہیں اور چونکہ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں اس لئے آپ کا لقب ”ذوالنورین”ہے۔ آپ جنگ بدر کے علاوہ دوسرے تمام اسلامی جہادوں میں کفار سے جنگ فرماتے رہے ۔ جنگ بدر کے موقع پر ان کی زو جہ محترمہ جو رسول اللہ عزوجل  وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی صاحبزادی تھیں ، سخت علیل ہوگئیں تھیں اس لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کو جنگ بدر میں جانے سے منع فرمادیالیکن ان کومجاہدین بدر میں شمار فرماکرمال غنیمت میں سے مجاہدین کے برابر حصہ دیا اور اجروثواب کی بشارت بھی دی۔ حضرت امیرالمؤمنین عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد آ پ خلیفہ منتخب ہوئے اوربارہ برس تک تخت خلافت کو سرفراز فرماتے رہے ۔

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں اسلامی حکومت کی حدود میں بہت زیادہ توسیع ہوئی اور افریقہ وغیرہ بہت سے ممالک مفتوح ہوکر خلافت راشدہ کے زیر نگیں ہوئے۔ بیاسی برس کی عمر میں مصر کے باغیوں نے آپ کے مکان کا محاصرہ کرلیا اور بارہ ذوالحجہ یا اٹھارہ ذوالحجہ ـ  ۳۵ھ؁ جمعہ کے دن ان باغیوں میں سے ایک بدنصیب نے آپ کو رات کے وقت اس حال میں شہیدکردیا کہ آپ قرآنِ پاک کی تلاوت فرما رہے تھے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کے چند قطرات قرآن شریف کی آیت فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللہُ (1) پر پڑے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جنازہ کی نماز حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں مدفون ہیں۔(2)                 (تاریخ الخلفاء وازا لۃ الخفاء وغیرہ

 کرامات

 زنا کار آنکھیں

     علامہ تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب”طبقات”میں تحریرفرمایا ہے کہ ایک شخص نے راستہ چلتے ہوئے ایک اجنبی عورت کو گھور گھور کر غلط نگاہوں سے دیکھا۔ اس کے بعد یہ شخص امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ اس شخص کو دیکھ کر حضرت امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت ہی پر جلال لہجہ میں فرمایا کہ تم لوگ ایسی حالت میں میرے سامنے آتے ہو کہ تمہاری آنکھوں میں زنا کے اثرات ہوتے ہیں۔ شخص مذکور نے (جل بھن کر)کہا کہ کیا رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعدآ پ پر وحی اترنے لگی ہے؟آپ کو یہ کیسے معلوم ہوگیا کہ میری آنکھوں میں زناکے اثرات ہیں۔

    امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشادفرمایا کہ میرے اوپر وحی تونہیں نازل ہوتی ہے لیکن میں نے جو کچھ کہا ہے یہ بالکل ہی قول حق اورسچی بات ہے اورخداوند قدوس نے مجھے ایک ایسی فراست    (نورانی بصیرت) عطافرمائی ہے جس سے میں لوگوں کے دلوں کے حالات وخیالات کومعلوم کرلیاکرتاہوں۔

          (حجۃاللہ علی العالمین ج۲،ص۸۶۲وازالۃالخفاء، مقصد۲،ص۲۲۷)

 تبصرہ

   یعنی آدمی جب کوئی گناہ کرتاہے تو اس کا یہ اثر ہوتاہے کہ اس کے قلب پر ایک سیاہ داغ اوربدنما دھبہ پڑ جاتاہے اورچونکہ قلب پورے جسم کا بادشاہ ہے اس لئے قلب پر جب کوئی اثر پڑتا ہے تو پورا بدن اس سے متأثر ہوجاتاہے تو خاصانِ خدا جن کی آنکھوں میں نوربصارت کے ساتھ ساتھ نور بصیرت بھی ہوا کرتا ہے وہ بدن کے ہر ہر حصہ میں ان اثرات کو اپنے نور فراست اورنگاہ کرامت سے دیکھ لیا کرتے ہیں ۔ امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چونکہ اہل بصیرت اور صاحب باطن تھے اس لئے انہوں نے اپنی نگاہ کرامت سے شخص مذکور کی آنکھوں میں اس کے گناہ کے اثرات کو دیکھ لیااوراس کی آنکھوں کو اس لئے زناکار کہا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ”زنا العینین النظر”(2) یعنی کسی اجنبی عورت کو بری نیت سے دیکھنایہ آنکھوں کا زنا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم

ہاتھ میں کینسر

    حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما راوی ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد نبوی شریف کے منبر اقدس پر خطبہ پڑھ رہے تھے کہ بالکل ہی اچانک ایک بدنصیب اورخبیث النفس انسان جس کا نام ”جہجاہ غفاری”تھا کھڑا ہوگیا اور آپ کے دست مبارک سے عصا چھین کر اس کو توڑ ڈالا۔ آپ نے اپنے حلم وحیاء کی و جہ سے اس سے کوئی مواخذہ نہیں فرمایا لیکن خدا تعالیٰ کی قہاری وجباری نے اس بے ادبی اورگستاخی پر اس مردود کو یہ سزاد ی کہ ا سکے ہاتھ میں کینسر کا مرض ہوگیا اوراس کا ہاتھ گل سڑ کر گرپڑا اوروہ یہ سزا پاکر ایک سال کے اندرہی مرگیا۔

             (حجۃ اللہ علی العالمین ج۲،ص۸۶۲وتاریخ الخلفاء،ص۱۱۲)

گستاخی کی سزا

    حضرت ابو قلابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں ملک شام کی سرزمین میں تھا تو میں نے ایک شخص کو بار بار یہ صدا لگاتے ہوئے سنا کہ ”ہائے افسوس! میرے لئے جہنم ہے۔”میں اٹھ کر اس کے پاس گیاتو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس شخص کے دونوں ہاتھ اورپاؤں کٹے ہوئے ہیں اور وہ دونوں آنکھوں سے اندھا ہے اوراپنے چہرے کے بل زمین پر اوندھا پڑا ہو اباربار لگاتاریہی کہہ رہا ہے کہ ”ہائے افسوس ! میرے لئے جہنم ہے ۔”یہ منظر دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اورمیں نے اس سے پوچھا کہ اے شخص ! تیرا کیا حال ہے ؟ اورکیوں اورکس بناء پر تجھے اپنے جہنمی ہونے کا یقین ہے؟ یہ سن کر اس نے یہ کہا: اے شخص! میرا حال نہ پوچھ، میں ان بدنصیب لوگوں میں سے ہوں جو امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کرنے کے لئے ان کے مکان میں گھس پڑے تھے ۔ میں جب تلوار لے کر ان کے قریب پہنچا تو ان کی بیوی صا حبہ نے مجھے ڈانٹ کر شور مچانا شروع کردیا تو میں نے ان کی بیوی صا حبہ کو ایک تھپڑ ماردیا یہ دیکھ کر امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ دعا مانگی کہ ”اللہ تعالیٰ تیرے دونوں ہاتھوں اوردونوں پاؤں کو کاٹ ڈالے اورتیری دونوں آنکھوں کو اندھی کردے اور تجھ کو جہنم میں جھونک دے۔

اے شخص!میں امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پُر جلال چہرے کو دیکھ کر اوران کی اس قاہرانہ دعا کو سن کر کانپ اٹھا اور میرے بدن کا ایک ایک رونگٹا کھڑا ہوگیا اور میں خوف ودہشت سے کانپتے ہوئے وہاں سے بھاگ نکلا ۔

امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی چاردعاؤں میں سے تین دعاؤں کی زد میں تو آچکا ہوں، تم دیکھ رہے ہوکہ میرے دونوں ہاتھ اوردونوں پاؤں کٹ چکے اوردونوں آنکھیں اندھی ہو چکیں اب صرف چوتھی دعا یعنی میرا جہنم میں داخل ہونا باقی رہ گیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ معاملہ بھی یقیناہوکر رہے گا چنانچہ اب میں اسی کا انتظار کررہا ہوں اور اپنے جرم کو بار بار یاد کر کے نادم وشرمسار ہورہاہوں اوراپنے جہنمی ہونے کا اقرارکرتا ہوں۔

(ازالۃ الخفاء،مقصد۲،ص۲۲۷)

 تبصرہ

     مذکورہ بالا دونوں روایتوں اورکرامتوں سے یہ سبق ملتاہے کہ اللہ تعالیٰ اگرچہ بہت بڑا ستار وغفار اورغفورورحیم ہے، لیکن اگر کوئی بدنصیب اس کے محبوب بندوں کی شان میں کوئی گستاخی وبے ادبی کرتاہے تو خداوند قدوس کی قہاری وجباری اس مردود کو ہرگز ہرگز معاف نہیں فرماتی بلکہ ضرور بالضروردنیا وآخرت کے بڑے بڑے عذابوں میں گرفتار کردیتی ہے اوروہ دونوں جہان میں قہر قہار وغضب جبار کا اس طرح سزاوار ہوجاتاہے کہ دنیا میں لعنتوں کی باراورپھٹکاراورآخرت میں عذاب نار کے سوا اس کو کچھ نہیں ملتا۔ رافضی اوروہابی جن کے دین ومذہب کی بنیادہی محبوبان خدا کی بے ادبی پر ہے ہم نے ان گستاخوں اوربے ادبوں میں سے کئی ایک کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ان لوگوں پر قہر الٰہی کی ایسی مار پڑی ہے کہ توبہ توبہ، الامان۔ اورمرتے وقت ان لوگوں کا اتنا برا حال ہوا ہے کہ توبہ توبہ ۔ نعوذباللہ !

    اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اللہ والوں کی بے ادبی وگستاخی کی لعنت سے محفوظ رکھے اوراپنے محبوبوں کی تعظیم وتوقیر اوران کے ادب واحترام کی توفیق بخشے۔ امین

 خواب میں پانی پی کر سیراب

     حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جن دنوں باغیوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان کا محاصرہ کرلیا اوران کے گھر میں پانی کی ایک بوند تک کا جانا بند کردیا تھا اورحضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیاس کی شدت سے تڑپتے رہتے تھے میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ملاقات کے لیے حاضرہوا تو آپ اس دن روزہ دار تھے ۔ مجھ کو دیکھ کرآپ نے فرمایا کہ اے عبداللہ بن سلام!آج میں حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے دیدار پرانوارسے خواب میں مشرف ہوا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ وسلم نے انتہائی مشفقانہ لہجے میں ارشادفرمایا کہ اے عثمان! رضی اللہ تعالیٰ عنہ ظالموں نے پانی بند کر کے تمہیں پیاس سے بے قرار کردیا ہے؟میں نے عرض کیا کہ جی ہاں ! تو فوراً  ہی آپ نے دریچی میں سے ایک ڈول میری طرف لٹکا دیا جو نہایت شیریں اور ٹھنڈے پانی سے بھر اہوا تھا ، میں اس کو پی کر سیراب ہوگیا اوراب اس و قت بیداری کی حالت میں بھی اس پانی کی ٹھنڈک میں اپنی دونوں چھاتیوں اوردونوں کندھوں کے درمیان محسوس کرتا ہوں ۔ پھر حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے عثمان! اگر تمہاری خواہش ہوتو ان باغیوں کے مقابلہ میں تمہاری امداد ونصرت کروں۔اوراگر تم چاہو  تو ہمارے پاس آکر روزہ افطار کرو۔ اے عبداللہ بن سلام ! میں نے خوش ہوکر یہ عرض کردیا کہ یارسول اللہ ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم آپ کے دربار پر انوار میں حاضر ہوکر روزہ افطار کرنا یہ زندگی سے ہزاروں لاکھوں درجے زیادہ مجھے عزیز ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس کے بعد رخصت ہوکر چلا آیا اوراسی دن رات میں باغیوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہیدکر دیا۔

البدایہ والنہایہ ،ج۷،ص۱۸۲

 اپنے مدفن کی خبر

     حضرت امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ امیرالمؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع کے اس حصہ میں تشریف لے گئے جو ”حش کوکب”کہلاتا ہے تو آپ نے وہاں کھڑے ہوکر ایک جگہ پر یہ فرمایا کہ عنقریب یہاں ایک مرد صالح دفن کیا جائے گا۔ چنانچہ اس کے بعد ہی آپ کی شہادت ہوگئی ا ورباغیوں نے آپ کے جنازہ مبارکہ کے ساتھ اس قدر ہلڑبازی کی کہ آپ کونہ روضہ منورہ کے قریب دفن کیا جاسکا نہ جنت البقیع کے اس حصہ میں مدفون کیے جاسکے جو کبارصحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا قبرستان تھا بلکہ سب سے دورالگ تھلگ ”حش کوکب”میں آپ سپردِ خا ک کئے گئے جہاں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہاں امیرالمؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر مبارک بنے گی کیونکہ اس وقت تک وہاں کوئی قبر تھی ہی نہیں ۔

ازالۃ الخفاء،مقصد۲،ص۲۲۷

 تبصرہ

     اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو ان باتوں کا بھی علم عطافرمادیتاہے کہ وہ کب اورکہاں وفات پائیں گے اورکس جگہ انکی قبر بنے گی۔ چنانچہ سینکڑوں اولیاء کرام کے تذکروں میں لکھاہوا ہے کہ ان اللہ والوں نے قبل از وقت لوگوں کو یہ بتا دیا ہے کہ وہ کب؟ اورکہاں ؟اورکس جگہ وفات پاکر مدفون ہوں گے ۔

 ضروری انتباہ

 اس موقع پر بعض کج فہم اوربدعقیدہ لوگ عوام کو بہکاتے رہتے ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے :

 وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ م بِایِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس کو نہیں جانتا کہ وہ کونسی زمین میں مرے گا۔لہٰذا اولیاء کرام کے سب قصے غلط ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کی یہ آیت حق اور برحق ہے اورہر مؤمن کا اس پر ایمان ہے مگر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بغیر اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے کوئی شخص اپنی عقل وفہم سے اس بات کو نہیں جان سکتا کہ وہ کب اورکہاں مرے گا۔لیکن اگراللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کوبذریعہ وحی اوراولیاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کو بطریق کشف وکرامت ان چیزوں کا علم عطا فرمادے تو وہ بھی یہ جان لیتے ہیں کب اورکہاں ان کا انتقال ہوگا۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اس بات کو جانتا ہی ہے کہ کون کہاں مرے گا لیکن اللہ تعالیٰ کے بتادینے سے خاصان خدابھی اس بات کو جان لیتے ہیں کہ کون کہاں مرے گا۔مگر کہاں اللہ تعالیٰ کا علم اورکہاں بندوں کا علم ، اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ، ذاتی اور  قدیم ہے اوربندوں کا علم عطائی اورحادث ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ، ابدی اورغیر محدود ہے اوربندوں کا علم فانی اورمحدود ہے ۔

    اب یہ مسئلہ نہایت ہی صفائی کے ساتھ واضح ہوگیا کہ قرآنی ارشاد کا مفاد کہ اللہ تعالیٰ کے سواکوئی نہیں جانتا کہ کون کب اورکہاں مرے گا؟اوراہل حق کا یہ عقیدہ کہ اولیاء کرام بھی جانتے ہیں کہ کون کب اورکہاں مرے گا؟یہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ پر صحیح ہیں اوران دونوں باتوں میں ہرگزہرگزکوئی تعارض نہیں۔کیونکہ جہاں یہ کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کون کب اورکہاں مرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر خداکے بتائے کوئی نہیں جانتا اورجہاں یہ کہا گیا کہ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام واولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم جانتے ہیں کہ کون کب اورکہاں مرے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام و اولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم خدا عزوجل کے بتا دینے سے جان لیتے ہیں۔ اب ناظرین کرام انصاف فرمائیں کہ ان دونوں باتوں میں کونسا تعارض اور ٹکراؤ ہے؟دونوں ہی باتیں اپنی اپنی جگہ پرسوفیصدی صحیح اوردرست ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

 شہادت کے بعد غیبی آواز

     حضر ت عدی بن حاتم صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت امیر المؤمنین عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے دن میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ کوئی شخص بلند آواز سے یہ کہہ رہا تھا:ترجمہ

  یعنی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو راحت اورخوشبو کی بشارت دو اورنہ ناراض ہونے والے رب کی ملاقات کی خوشخبری سناؤ اور خدا کے غفران ورضوان کی بھی بشارت دے دو ۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں اس آواز کو سن کر ادھر ادھر نظر دوڑانے لگا اورپیچھے مڑکر بھی دیکھا مگر کوئی شخص نظر نہیں آیا۔

شواہد النبوۃ،ص۱۵۸

 مدفن میں فرشتوں کا ہجوم

     روایت ہے کہ باغیوں کی ہلڑبازیوں کے سبب تین دن تک آپ کی مقدس لاش بے گوروکفن پڑی رہی ۔ پھر چند جاں نثاروں نے رات کی تاریکی میں آپ کے جنازہ مبارکہ کو اٹھاکر جنت البقیع میں پہنچادیا اورآپ کی مقدس قبر کھودنے لگے ۔ اچانک ان لوگوں نے دیکھا کہ سواروں کی ایک بہت بڑی جماعت ان کے پیچھے پیچھے جنت البقیع میں داخل ہوئی ان سواروں کو دیکھ کر لوگوں پر ایسا خوف طاری ہوا کہ کچھ لوگوں نے جنازہ مبارکہ کو چھوڑ کر بھاگ جانے کا ارادہ کرلیا۔ یہ دیکھ کر سواروں نے باآوازبلند کہا کہ آپ لوگ ٹھہرے رہیں اوربالکل نہ ڈریں ، ہم لوگ بھی ان کی تدفین میں شرکت کے لیے یہاں حاضر ہوئے ہیں۔ یہ آواز سن کر لوگوں کا خوف دورہوگیا اوراطمینان وسکون کے ساتھ لوگوں نے آپ کو دفن کیا۔ قبرستان سے لوٹ کر ان صحابیوں رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے قسم کھا کر لوگوں سے کہا کہ یقینا یہ فرشتوں کی جماعت تھی ۔

شواہد النبوۃ،ص۱۵۸

گستاخ درندہ کے منہ میں

     منقول ہے کہ حجا ج کا ایک قافلہ مدینہ منورہ پہنچا ۔تمام اہل قافلہ حضرت امیر المؤمنین عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار مبارک پر زیارت کرنے اور فاتحہ خوانی کے لئے گئے لیکن ایک شخص جو آپ سے بغض وعنادرکھتا تھا توہین واہانت کے طور پر آپ کی زیارت کے لئے نہیں گیا اورلوگوں سے کہنے لگا کہ وہ بہت دور ہے اس لئے میں نہیں جاؤں گا۔

    یہ قافلہ جب اپنے وطن کو واپس آنے لگا تو قافلہ کے تمام افراد خیر وعافیت اورسلامتی کے ساتھ اپنے اپنے وطن پہنچ گئے لیکن وہ شخص جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر انور کی زیارت کے لیے نہیں گیا تھا اس کا یہ انجام ہوا کہ درمیان راہ میں بیچ قافلہ کے اندر ایک درندہ جانور دراتا اورغراتاہواآیا اوراس شخص کو اپنے دانتوں سے دبوچ کر اور پنجوں سے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا۔

    یہ منظر دیکھ کر تمام اہل قافلہ نے یک زبان ہوکر یہ کہا کہ یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بے ادبی وبے حرمتی کا انجام ہے ۔

شواہد النبوۃ،ص۱۵۸

 تبصرہ

     مذکورہ بالا تینوں روایتوں سے امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جلالت شان اور دربارخداوندی میں انکی مقبولیت اورولایت وکرامت کا ایسا عظیم الشان نشان ظاہر ہوتاہے کہ ان کے مراتب کی بلندیوں کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا اورآخری روایت تو ان گستاخوں کے لیے بہت ہی عبرت خیز اورخوفناک نشان ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں بدزبان ہوکر خلفاء ثلاثہ پر تبرابازی کیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہمارے دور کے شیعوں کا مذموم وناپاک طریقہ ہے ۔

    اہل سنت حضرات پر لازم ہے کہ ان کی مجالس میں ہرگزہرگز قدم نہ رکھیں ورنہ قہر الٰہی میں مبتلا ہونے کا خطرناک اندیشہ ہے ۔ خداوندکریم ہر مسلمان کو اپنے قہرو غضب سے بچائے رکھے اورحضرات خلفاء کرام اورتمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی محبت وعقیدت کی دولت عطافرمائے ۔ آمین

Advertisements