حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

  خلیفۂ دوم جانشین پیغمبر حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ”ابوحفص” اورلقب ”فاروق اعظم”ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اشرافِ قریش میں اپنی ذاتی وخاندانی وجاہت کے لحاظ سے بہت ہی ممتاز ہیں ۔ آٹھویں پشت میں آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خاندانی شجرہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے شجرۂ نسب سے ملتاہے ۔آپ واقعہ فیل کے تیرہ برس بعد مکہ مکرمہ میں پیداہوئے اوراعلان نبوت کے چھٹے سال ستائیس برس کی عمر میں مشرف بہ اسلام ہوئے ،جبکہ ایک روایت میں آپ سے پہلے کل انتالیس آدمی اسلام قبول کرچکے تھے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مسلما ن ہوجانے سے مسلمانوں کو بے حد خوشی ہوئی اوران کو ایک بہت بڑا سہارا مل گیا یہاں تک کہ حضوررحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ خانہ کعبہ کی مسجد میں اعلانیہ نماز ادافرمائی ۔

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام اسلامی جنگوں میں مجاہدانہ شان کے ساتھ کفار سے لڑتے رہے اور پیغمبراسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی تمام اسلامی تحریکات اورصلح وجنگ وغیرہ کی تمام منصوبہ بندیوں میں حضورسلطان مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے وزیر ومشیر کی حیثیت سے وفادار ورفیق کار رہے ۔

    امیرالمؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ منتخب فرمایا اوردس برس چھ ماہ چاردن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تخت خلافت پر رونق افروز ہو کر جانشینی رسول کی تمام ذمہ داریوں کو باحسن وجوہ انجام دیا۔۲۶ذی الحجہ ۲۳ھ؁ چہار شنبہ کے دن نماز فجر میں ابولؤلوہ فیروز مجوسی کافر نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شکم میں خنجر مارا اور آپ یہ زخم کھا کر تیسرے دن شرف شہادت سے سرفراز ہوگئے ۔ بوقت وفات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف تریسٹھ برس کی تھی۔ حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور روضۂ مبارکہ کے اندر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلوئے انور میں مدفون ہوئے ۔

 (تاریخ الخلفاء وازالۃ الخفاء وغیرہ)

کرامات

 قبروالوں سے گفتگو

     امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ ایک نوجوان صالح کی قبر پر تشریف لے گئے اورفرمایا کہ اے فلاں !اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ   وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ

 یعنی جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرگیااس کے لیے دو جنتیں ہیں

     اے نوجوان!بتا تیرا قبر میں کیا حال ہے؟اس نوجوان صالح نے قبر کے اندر سے آپ کا نام لے کر پکارااوربآواز بلند دو مرتبہ جواب دیا کہ میرے رب نے یہ دونوں جنتیں مجھے عطافرماد ی ہیں ۔

 (حجۃ اللہ علی العالمین ج۲،ص۸۶۰بحوالہ حاکم)

مدینہ کی آواز نہاوندتک

     امیرالمؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالاربنا کر نہاوند کی سرزمین میں جہاد کے لیے روانہ فرمادیا۔ آپ جہاد میں مصروف تھے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجدنبوی کے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ناگہاں یہ ارشاد فرمایا کہ یَاسَارِیَۃُ الْجَبَل (یعنی اے ساریہ!پہاڑکی طرف اپنی پیٹھ کرلو) حاضرین مسجد حیران رہ گئے کہ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو سرزمین نہاوند میں مصروف جہاد ہیں اورمدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر ہیں۔آج امیر المؤمنین نے انہیں کیونکر اورکیسے پکارا ؟ لیکن نہاوند سے جب حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاصد آیا تو اس نے یہ خبر دی کہ میدان جنگ میں جب کفار سے مقابلہ ہوا تو ہم کو شکست ہونے لگی اتنے میں ناگہاں ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو چلا چلا کریہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ ! تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو ۔ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز ہے، یہ کہا اورفوراً ہی انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پشت کر کے صف بندی کا حکم دیا اور اس کے بعد جو ہمارے لشکر کی کفار سے ٹکر ہوئی تو ایک دم اچانک جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا اوردم زدن میں اسلامی لشکرنے کفار کی فوجوں کو روندڈالا اورعساکر اسلامیہ کے قاہرانہ حملوں کی تاب نہ لاکر کفار کا لشکر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور افواج اسلام نے فتح مبین کا پرچم لہرا دیا۔  

  (مشکوٰۃ باب الکرامات ، ص۵۴۶وحجۃ اللہ ج۲،ص۸۶۰وتاریخ الخلفاء،ص۸۵)

تبصرہ

     حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث کرامت سے چند باتیں معلوم ہوئیں جو طالب حق کے لیے روشنی کا مینارہ ہيں۔

یہ کہ حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورآپ کے سپہ سالار دونوں صاحب کرامت ہیں کیونکہ مدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر آواز کو پہنچا دینا یہ امیر المؤمنین کی کرامت ہے اورسینکڑوں میل کی دوری سے کسی آواز کو سن لینا یہ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامت ہے ۔ یہ کہ امیرالمؤمنین نے مدینہ طیبہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر نہاوند کے میدان جنگ اور اس کے احوال وکیفیات کو دیکھ لیا اورپھرعساکر اسلامیہ کی مشکلات کا حل بھی منبر پرکھڑے کھڑے لشکر کے سپہ سالار کو بتا دیا۔

     اس سے معلوم ہوا کہ اولیائے کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کے کان اورآنکھ اوران کی سمع وبصر کی طاقتوں کو عام انسانوں کے کان وآنکھ اوران کی قوتوں پر ہرگزہرگز قیاس نہیں کرناچاہیے بلکہ یہ ایمان رکھنا چاہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کے کان اور آنکھ کو عام انسانوں سے بہت ہی زیادہ طاقت عطافرمائی ہے اوران کی آنکھوں، کانوں اوردوسرے اعضاء کی طاقت اس قدر بے مثل اوربے مثال ہے اوران سے ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام پاتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر کرامت کے سوا کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔

حدیث مذکوربالا سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکومت ہوا پر بھی تھی اورہوا بھی ان کے کنٹرول میں تھی اس لئے کہ آوازوں کو دوسروں کے کانوں تک پہنچانادرحقیقت ہوا کا کام ہے کہ ہوا کے تموج ہی سے آوازیں لوگوں کے کانوں کے پردوں سے ٹکراکرسنائی دیا کرتی ہيں ۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب چاہا اپنے قریب والوں کو اپنی آواز سنادی اورجب چاہا تو سینکڑوں میل دور والوں کو بھی سنا دی ، اس لئے کہ ہوا آپ کے زیر فرمان تھی ، جہاں تک آپ نے چاہا ہواسے آواز پہنچانے کا کام لے لیا۔

    سبحان اللہ ! سچ فرمایا حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے کہ  مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللہُ لَہٗ  (یعنی جو خدا کا بندہ فرماں بردار بن جاتاہے توخدا اس کا کارساز ومددگار بن جاتاہے )

اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضر ت شیخ سعدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے ؎

 تو ہم گردن از حکمِ داور مپیچ

کہ گردن نہ پیچد زِ حکم تو ہیچ

  (یعنی توخدا کے حکم سے سرتابی نہ کر، تاکہ تیرے حکم سے دنیا کی کوئی چیز روگردانی نہ کرے۔)

دریا کے نام خط

     روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ایک مرتبہ مصرکا دریائے نیل خشک ہوگیا۔ مصری باشندوں نے مصر کے گورنر عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فریاد کی اوریہ کہا کہ مصر کی تمام ترپیداوارکا دارومداراسی دریائے نیل کے پانی پر ہے ۔ اے امیر!اب تک ہمارا یہ دستور رہا ہے کہ جب کبھی بھی یہ دریا سوکھ جاتاتھا تو ہم لوگ ایک خوبصورت کنواری لڑکی کو اس دریا میں زندہ دفن کر کے دریا کی بھینٹ چڑھایا کرتے تھے تو یہ دریا جاری ہوجایا کرتاتھا اب ہم کیا کریں؟ گورنر نے جواب دیا کہ ارحم الراحمین اوررحمۃ للعالمین کا رحمت بھرا دین ہمارا اسلام ہرگز ہرگزکبھی بھی اس بے رحمی اورظالمانہ فعل کی اجازت نہیں دے سکتا لہٰذا تم لوگ انتظار کرو میں دربار خلافت میں خط لکھ کر دریافت کرتاہوں وہاں سے جو حکم ملے گا ہم اسپر عمل کریں گے چنانچہ ایک قاصدگورنر کا خط لے کر مدینہ منورہ دربار خلافت میں حاضر ہوا امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گورنر کا خط پڑھ کر دریائے نیل کے نام ایک خط تحریر فرمایا جس کا مضمون یہ تھا کہ ”اے دریائے نیل ! اگر تو خود بخود جاری ہوا کرتا تھا تو ہم کو تیری کوئی ضرورت نہیں ہے اوراگر تواللہ تعالیٰ کے حکم سے جاری ہوتا تھا تو پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے جاری ہوجا”۔

    امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس خط کو قاصد کے حوالہ فرمایا اورحکم دیا کہ میرے اس خط کو دریائے نیل میں دفن کردیا جائے ۔چنانچہ آپ کے فرمان کے مطابق گورنر مصر نے اس خط کو دریائے نیل کی خشک ریت میں دفن کردیا، خدا کی شان کہ جیسے ہی امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط دریا میں دفن کیا گیا فوراً ہی دریا جاری ہوگیا اوراس کے بعد پھر کبھی خشک نہیں ہوا۔)

  (حجۃ اللہ ج۲،ص۸۶۱وازالۃ الخفاء،مقصد۲،ص۱۶۶)

 تبصرہ

    اس روایت سے معلوم ہوا کہ جس طرح ہوا پر امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکومت تھی اسی طرح دریاؤں کے پانیوں پر بھی آپ کی حکمرانی کا پرچم لہرا رہا تھا اوردریاؤں کی روانی بھی آپ کی فرماں برداروخدمت گزار تھی ۔

 چادردیکھ کر آگ بجھ گئی

     روایت میں ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دور میں ایک مرتبہ ناگہاں ایک پہاڑ کے غار سے ایک بہت ہی خطرناک آگ نمودار ہوئی جس نے آس پاس کی تمام چیزوں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنادیا،جب لوگوں نے دربار خلافت میں فریاد کی تو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی چادر مبارک عطافرمائی اور ارشادفرمایا کہ تم میری یہ چادر لے کر آگ کے پاس چلے جاؤ ۔ چنانچہ حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس مقدس چادر کو لے کرر وانہ ہوگئے اورجیسے ہی آگ کے قریب پہنچے یکایک وہ آگ بجھنے اورپیچھے ہٹنے لگی یہاں تک کہ وہ غار کے اندر چلی گئی اورجب یہ چادر لے کر غار کے اندر داخل ہوگئے تو وہ آگ بالکل ہی بجھ گئی اور پھر کبھی بھی ظاہر نہیں ہوئی۔

  (ازالۃ الخفاء مقصد۲،ص۱۷۲)

تبصرہ

    اس روایت سے پتہ چلتاہے کہ ہوا اورپانی کی طرح آگ پر بھی امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکمرانی تھی اورآگ بھی آپ کے تابع فرما ن تھی ۔

 مارسے زلزلہ ختم

امام الحرمین نے اپنی کتاب ”الشامل”میں تحریر فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں زلزلہ آگیا اورزمین زوروں کے ساتھ کانپنے اورہلنے لگی۔ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جلا ل میں بھر کرزمین پر ایک درہ مار ااور بلندآواز سے تڑپ کر فرمایا

قِرِّیْ اَلَمْ اَعْدِلْ عَلَیْکِ  (اے زمین !ساکن ہوجا کیا میں نے تیرے اوپر عدل نہیں کیاہے) آپ کا فرمان جلالت نشان سنتے ہی زمین ساکن ہوگئی اورزلزلہ ختم ہوگیا۔

             (حجۃ اللہ ج۲،ص۸۶۱وازالۃ الخفاء،مقصد۲،ص۱۷۲)

 تبصرہ

    اس روایت سے یہ ثابت ہوتاہے کہ امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکومت جس طرح ہوا ، پانی ، آگ پر تھی اسی طرح زمین پر بھی آپ کے فرمان شاہی کا سکہ چلتا تھا۔ مذکورہ بالا چاروں کرامتوں سے معلوم ہوا کہ اولیاء اللہ کی حکومت ہوا ، آگ ، پانی اورمٹی سبھی پر ہے اور چونکہ یہ چاروں اربع عناصر کہلاتے ہیں یعنی انہیں چاروں سے تمام کائنات عالم کے مرکبات بنائے گئے ہیں ،تو جب ان چاروں عناصر پر اولیاء کرام کی حکومت ثابت ہوگئی تو جو جو چیزیں ان چاروں عناصرسے مرکب ہوئی ہیں ظاہر ہے کہ ان پر بطریق اولیٰ اولیاء کرام کی حکومت ہوگی ۔

 دور سے پکار کا جواب

حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سرزمین روم میں مجاہدین اسلام کا ایک لشکر بھیجا ۔ پھر کچھ دنوں کے بعد بالکل ہی اچانک مدینہ منورہ میں نہایت ہی بلندآواز سے آپ نے دو مرتبہ یہ فرمایا :

یَالَبَّیْکَاہُ!یَالَبَّیْکَاہُ!  (یعنی اے شخص! میں تیری پکار پر حاضر ہوں)اہل مدینہ حیران رہ گئے اوران کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کس فریاد کرنے والے کی پکار کا جواب دے رہے ہیں؟ لیکن جب کچھ دنوں کے بعد وہ لشکر مدینہ منورہ واپس آیا اوراس لشکر کا سپہ سالاراپنی فتوحات اور اپنے جنگی کارناموں کاذکر کر نے لگا تو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ان باتوں کو چھوڑدو! پہلے یہ بتاؤ کہ جس مجاہد کو تم نے زبردستی دریا میں اتاراتھا اوراس نے یَاعُمَرَاہُ! یَاعُمَرَاہُ!  (اے میرے عمر!میری خبرلیجئے ) پکارا تھا اس کا کیا واقعہ تھا۔

    سپہ سالارنے فاروقی جلال سے سہم کر کانپتے ہوئے عرض کیا کہ امیر المؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے اپنی فو ج کو دریا کے پاراتار نا تھا اس لئے میں نے پانی کی گہرائی کا اندازہ کرنے کے لیے اس کو دریا میں اترنے کا حکم دیا ،چونکہ موسم بہت ہی سرد تھا اور زور دار ہوائیں چل رہی تھیں اس لئے اس کو سردی لگ گئی اوراس نے دو مرتبہ زور زور سے  یَا عُمَرَاہُ! یَاعُمَرَاہُ! کہہ کر آپ کو پکارا،پھر یکایک اس کی روح پرواز کر گئی ۔ خدا گواہ ہے کہ میں نے ہرگز ہرگز اس کو ہلاک کرنے کے ارادہ سے دریا میں اترنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ جب اہل مدینہ نے سپہ سالارکی زبانی یہ قصہ سناتو ان لوگوں کی سمجھ میں آگیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دن جو دو مرتبہ یَالَبَّیْکَاہُ! یَالَبَّیْکَاہُ! فرمایا تھا درحقیقت یہ اسی مظلوم مجاہد کی فریاد وپکارکا جواب تھا ۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سپہ سالارکا بیان سن کر غیظ وغضب میں بھر گئے اورفرمایاکہ سر دموسم اور ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں میں اس مجاہد کودریا کی گہرائی میں اتارنا یہ قتل خطا کے حکم میں ہے ،لہٰذا تم اپنے مال میں سے اس کے وارثوں کو اس کا خون بہا ادا کرواورخبردار! خبردار!آئندہ کسی سپاہی سے ہرگز ہرگز کبھی کوئی ایسا کام نہ لینا جس میں اس کی ہلاکت کا اندیشہ ہوکیونکہ میرے نزدیک ایک مسلمان کا ہلاک ہوجانا بڑی سے بڑی ہلاکتوں سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر ہلاکت ہے۔

                 (ازالۃ الخفاء ، مقصد۲،ص۱۷۲)

 تبصرہ

     امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس وفات پانے والے سپاہی کی فریاد اور پکار کو سینکڑوں میل کی دوری سے سن لیا اوراس کا جواب بھی دیا۔ اس روایت سے ظاہر ہوتاہے کہ اولیاء کرام دور کی آوازوں کو سن لیتے ہیں اوران کا جواب بھی دیتے ہیں ۔

 دوغیبی شیر

     روایت ہے کہ بادشاہ روم کا بھیجا ہوا ایک عجمی کا فرمدینہ منورہ آیا اورلوگوں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پتہ پوچھا، لوگوں نے بتادیا کہ وہ دوپہر کو کھجور کے باغوں میں شہر سے کچھ دور قیلولہ فرماتے ہوئے تم کو ملیں گے ۔ یہ عجمی کافر ڈھونڈتے ڈھونڈتے آپ کے پاس پہنچ گیااور یہ دیکھا کہ آپ اپنا چمڑے کا درّہ اپنے سر کے نیچے رکھ کر زمین پر گہری نیند سو رہے ہیں ۔ عجمی کافر اس ارادے سے تلوار کو نیام سے نکال کر آگے بڑھا کہ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کر کے بھاگ جائے مگر وہ جیسے ہی آگے بڑھابالکل ہی اچانک اس نے یہ دیکھا کہ دو شیر منہ پھاڑے ہوئے اس پر حملہ کرنے والے ہیں۔ یہ خوفناک منظر دیکھ کر وہ خوف ودہشت سے بلبلا کر چیخ پڑا اور اس کی چیخ کی آواز سے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیدارہوگئے اوریہ دیکھا کہ عجمی کافر ننگی تلوار ہاتھ میں لئے ہوئے تھرتھرکانپ رہا ہے ۔ آپ نے اس کی چیخ اوردہشت کا سبب دریافت فرمایا تو اس نے سچ مچ ساراواقعہ بیان کردیا اورپھر بلند آواز سے کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوگیا اور امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے ساتھ نہایت ہی مشفقانہ برتاؤ فرماکر اس کے قصور کو معاف کردیا۔

ازالۃ الخفاء،مقصد۲،ص۱۷۲وتفسیرکبیرج۵،ص۴۷۸

تبصرہ

    یہ روایت بتا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کی حفاظت کے لیے غیب سے ایسا سامان فراہم فرمادیتاہے کہ جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا اوریہی غیبی سامان اولیاء اللہ کی کرامت کہلاتے ہیں۔ حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسی مضمون کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ؎

 محال است چوں دوست دارد ترا

کہ در دست دشمن گزارد ترا

     یعنی اللہ تعالیٰ جب تم کو اپنا محبوب بندہ بنالے تو پھر یہ محال ہے کہ وہ تم کو تمہارے دشمن کے ہاتھ میں کسمپرسی کے عالم میں چھوڑدے بلکہ اس کی کبریائی ضرور دشمنوں سے حفاظت کے لیے اپنے محبوب بندوں کی غیبی طور پر امدادونصرت کا سامان پیدا فرما دیتی ہے اوریہی نصرت ایمانی فضل ربانی بن کر اس طرح محبوبان الٰہی کی دشمنوں سے حفاظت کرتی ہے جس کود یکھ کر بے اختیار یہ کہنا پڑتا ہے کہ ؎

 ”دشمن اگر قوی است نگہبان قوی تَر است”

 قبر میں بدن سلامت

     ولید بن عبدالملک اموی کے دور حکومت میں جب روضہ منورہ کی دیوار گر پڑی اوربادشاہ کے حکم سے تعمیر جدیدکے لیے بنیادکھودی گئی توناگہاں بنیادمیں ایک پاؤں نظر آیا، لوگ گھبراگئے اورسب نے یہی خیال کیا کہ یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا پائے اقدس ہے لیکن جب عروہ بن زبیر صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے دیکھا اور پہچانا پھر قسم کھا کر یہ فرمایا کہ یہ حضورانورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کامقدس پاؤں نہیں ہے بلکہ یہ امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قدم شریف ہے تو لوگوں کی گھبراہٹ اوربے چینی میں قدرے سکون ہوا۔ ( بخاری شریف  )۶

تبصرہ

     بخاری شریف کی یہ روایت اس بات کی زبردست شہادت ہے کہ بعض اولیائے کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کے مقدس جسموں کو قبر کی مٹی برسوں گزرجانے کے بعد بھی نہیں کھاسکتی ۔ بدن تو بدن ان کے کفن کو بھی مٹی میلا نہیں کرتی۔ جب اولیاء کرام کا  حال ہے تو بھلا حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا کیا حال ہوگا۔ پھر حضور سیدالانبیاء خاتم النبیین، شفیع المذنبین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے جسم اطہر کا کیا کہنا ؟ جبکہ وہ اپنی قبر منور میں جسمانی لوازم حیات کے ساتھ زندہ ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے:

 فَنَبِیُّ اللہِ حَیٌّ یُّرْزَقُ

یعنی اللہ تعالیٰ کے نبی زندہ ہیں اوران کور وزی بھی دی جاتی ہے۔

 جوکہہ دیا وہ ہوگیا

     ربیعہ بن امیہ بن خلف نے امیرالمؤمنین حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اپنا یہ خواب بیان کیاکہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے کہ میں ایک ہرے بھرے میدان میں ہوں پھر میں اس سے نکل کر ایک ایسے چٹیل میدان میں آگیا جس میں کہیں دور دورتک گھاس یادرخت کا نام و نشان بھی نہیں تھا اورجب میں نیند سے بیدار ہوا تو واقعی میں ایک بنجر میدان میں تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تو ایمان لائے گا ، پھرا س کے بعد کافر ہوجائے گا اورکفرہی کی حالت میں مرے گا ۔ اپنے خواب کی یہ تعبیر سن کر وہ کہنے لگا کہ میں نے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے ،میں نے یوں ہی جھوٹ موٹ آپ سے یہ کہہ دیا ہے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فرمایا کہ تو نے خواب دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو مگر میں نے جو تعبیردی ہے وہ اب پوری ہوکر رہے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مسلمان ہونے کے بعد اس نے شراب پی اور امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو درہ مار کر سزادی اور اس کو شہر بدر کر کے خیبر بھیج دیا۔وہ ظالم وہاں سے بھاگ کر روم کی سرزمین میں چلا گیا اور وہاں جاکر وہ مردود نصرانی ہوگیا اورمرتد ہوکر کفر ہی کی حالت میں مرگیا۔

ازا لۃ الخفاء،مقصد ۲،ص۱۷۰

 لوگوں کی تقدیر میں کیاہے؟

     عبداللہ بن مسلمہ کہتے ہیں کہ ہمارے قبیلہ کا ایک وفد امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ خلافت میں آیا تو اس جماعت میں اشترنام کا ایک شخص بھی تھا۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو سر سے پیر تک باربار گرم گرم نگاہوں سے دیکھتے رہے پھر مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا یہ شخص تمہارے ہی قبیلہ کا ہے ؟میں نے کہا کہ ”جی ہاں” اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ خداعزوجل اس کو غارت کرے اور اس کے شروفساد سے اس امت کو محفوظ رکھے ۔ امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس دعا کے بیس برس بعد جب باغیوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا تو یہی ”اشتر”اس باغی گروہ کا ایک بہت بڑا لیڈر تھا۔

    اسی طرح ایک مرتبہ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ ملک شام کے کفار سے جہاد کرنے کے لیے لشکر بھرتی فرمارہے تھے۔ ناگہاں ایک ٹولی آپ کے سامنے آئی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انتہائی کراہت کے ساتھ ان لوگوں کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ پھر دوبارہ یہ لوگ آپ کے روبروآئے تو آپ نے منہ پھیرکر ان لوگوں کو اسلامی فوج میں بھرتی کرنے سے انکار فرمادیا۔ لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس طرز عمل سے انتہائی حیران تھے لیکن آخر میں یہ راز کھلا کہ اس ٹولی میں ”اسودتجیبی”بھی تھا جس نے اس واقعہ سے بیس برس بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی تلوار سے شہید کیا اوراس ٹولی میں عبدالرحمن بن ملجم مرادی بھی تھا جس نے اس واقعہ سے تقریباًچھبیس برس کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی تلوار سے شہید کرڈالا۔

ازالۃ الخفاء،مقصد۲،ص۱۶۹و۱۷۲

 تبصرہ

     مذکورہ بالا کرامتوں میں آپ نے ربیعہ بن امیہ بن خلف کے خاتمہ کے بارے میں برسوں پہلے یہ خبر دیدی کہ وہ کافر ہوکرمرے گا اوربیس برس پہلے آ پ نے ”اشتر”کے شروفساد سے امت کے محفوظ رہنے کی دعامانگی اور”اسودتجیبی”سے اس بناء پر منہ پھیرلیا اوراسلامی لشکر میں اس کو بھرتی کرنے سے انکار کردیا کہ یہ دونوں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتلوں میں سے تھے اورچھبیس برس پہلے آپ نے عبدالرحمن بن ملجم مرادی کو بنظر کراہت دیکھا اوراسلامی لشکر میں اس بناء پر بھرتی نہیں فرمایا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاتل تھا۔

    ان مستندروایتوں سے یہ ثابت ہوتاہے کہ اولیاء کرام کو خداوند قدوس کے بتادینے سے آدمیوں کی تقدیروں کا حال معلوم ہوجاتا ہے۔ اسی لئے حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی مثنوی شریف میں فرمایا ہے ؎

 لوح محفوظ است پیش اولیاء

از چہ محفوظ است محفوظ از خطاء

    یعنی لوح محفوظ اولیاء کرام کے پیش نظر رہتی ہے جس کو دیکھ کر وہ انسانوں کی تقدیروں میں کیا لکھا ہے؟اس کو جان لیتے ہیں۔ لوح محفوظ کو اس لئے لوح محفوظ کہتے ہیں کہ وہ غلطیوں اورخطاؤں سے محفوظ ہے ۔

 دعا کی مقبولیت

     ابو ہدبہ حمصی کا بیان ہے کہ جب امیرالمؤمنین حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ خبر ملی کہ عراق کے لوگوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گورنر کو اس کے منہ پرکنکریاں مارکر   اور ذلیل و رسواکر کے شہر سے باہر نکال دیا ہے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس خبر سے انتہائی رنج وقلق ہوا اورآپ بے انتہاغضبناک ہوکر مسجد نبوی علی صاحبھا الصلوۃ و السلام میں تشریف لے گئے اوراسی غیظ وغضب کی حالت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز شروع کردی لیکن چونکہ آپ فرط غضب سے مضطرب تھے اس لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نماز میں سہو ہوگیا اورآپ اس رنج وغم سے اوربھی زیادہ بے تاب ہوگئے اورانتہائی رنج وغم کی حالت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ دعا مانگی کہ یا اللہ ! عزوجل قبیلہ ثقیف کے لونڈے (حجاج بن یوسف ثقفی )کو ان لوگوں پرمسلط فرمادے جو زمانہ جاہلیت کا حکم چلاکر ان عراقیوں کے نیک وبدکسی کو بھی نہ بخشے ۔ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ دعا قبول ہوگئی اورعبدالملک بن مروان اموی کے دور حکومت میں حجاج بن یوسف ثقفی عراق کا گورنر بنا اوراس نے عراق کے باشندوں پر ظلم وستم کا ایسا پہاڑتوڑا کہ عراق کی زمین بلبلااٹھی۔ حجاج بن یوسف ثقفی اتنا بڑا ظالم تھا کہ اس نے جن لوگوں کو رسی میں باندھ کر اپنی تلوار سے قتل کیا ان مقتولوں کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے کچھ زائد ہی ہے اورجو لوگ اس کے حکم سے قتل کئے گئے ان کی گنتی کا تو شمار ہی نہیں ہوسکا۔

    حضرت ابن لہیعہ محدث نے فرمایا ہے کہ جس وقت امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ دعا مانگی تھی اس وقت حجاج بن یوسف ثقفی پیدا بھی نہیں ہواتھا ۔

                    (ازالۃ الخفاء، مقصد ۲،ص۱۷۲)

 تبصرہ

 اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کو غیب کی باتوں کا بھی علم عطا فرماتاہے ۔ چنانچہ روایت مذکورہ بالامیں آپ نے ملاحظہ فرما لیا کہ ابھی حجاج بن یوسف ثقفی پیدا بھی نہیں ہوا تھا لیکن امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ حجاج بن یوسف ثقفی نامی ایک بچہ پیدا ہوگا جو بڑا ہوکر گورنربنے گا اورانتہائی ظالم ہوگا۔

    ظاہر ہے کہ قبل از وقت ان باتوں کا معلوم ہوجانا یقینا یہ غیب کا علم ہے۔ اب یہ مسئلہ آفتاب عالم تاب سے بھی زیادہ روشن ہوگیا کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو غیب کا علم عطا فرماتاہے توپھر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام خصوصاًحضور سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے یقیناعلوم غیبیہ کا خزانہ عطافرمایا ہے اوریہ حضرات بیشمار غیب کی باتوں کو خدا تعالیٰ کے بتادینے سے جانتے ہیں اوردوسروں کو بھی بتاتے ہیں۔ چنانچہ اہل حق حضرات علماء اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام بالخصوص حضورسیدالانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو بے شمار علوم غیبیہ کے خزانے عطا فرمائے ہیں اوریہی عقیدہ حضرات تابعین وحضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا بھی تھا۔ چنانچہ مواہب اللدنیہ شریف میں ہے کہ

 قَدِ اشْتَھَرَ وَانْتَشَرَ اَمْرُ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ اَصْحَابِہِ بِالْاِطِّلَاعِ عَلَی الْغُیُوْبِ

    جناب رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم غیوب پر مطلع ہیں یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں عام طور پر مشہور اورزبان زدخاص وعام تھی

اسی طرح مواہب ا للدنیہ کی شرح میں علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

 نے تحریرفرمایاہے :

 وَاَصْحَابُہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَازِمُوْنَ بِاِطِّلَاعِہِ عَلَی الْغَیْبِ

    یعنی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا یہ پختہ عقیدہ تھا کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام غیب کی باتوں پر مطلع ہیں ان دو بزرگوں کے علاوہ دوسرے بہت سے ائمہ کرام نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں اس تصریح کو بیان فرمایا ہے

Advertisements