شرعی کونسل آف انڈیا کا دسواں فقہی سمینار
منعقدہ ١٣-١٤-١٥  /  رجب المرجب ١٤٣٤ھ  /  ٢٤-٢٥-٢٦  /  مئی ٢٠١٣ء


حوادث و نوازل کا دنیا میں بپا ہونا ایک بدیہی بات ہے مگر ان کا شرعی حکم نکالنا اور اس پر عمل پیرا ہونا نہایت مشکل کام ہے یعنی اتنا مشکل کہ جب تک ماہران فقہ و افتاء اپنی پوری علمی توانائی اس نوپید مسئلہ پر صرف نہ کریں حکم شرع نہ بیان کر سکیں، انہیں نوپید مسائل کے حل کے لے مرکز اہل سنت، بریلی شریف میں ”شرعی کونسل آف انڈیا” قائم ہے جس کے تحت ہر سال سہ موضوعاتی سیمینار لگا تار دس سال سے منعقد ہو رہا ہے۔ حسب سابق اس سال بھی تین عناوین پر ١٣،١٤،١٥ / رجب المرجب ١٤٣٤ھ / ٢٤،٢٥،٢٦ / مئی٢٠١٣ء کو ”علامہ حسن رضا کانفرنس ہال” واقع مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا، بریلی شریف میں سیمینار کا انعقاد ہوا جو چار نشستوں پر مشتمل تھا۔ چاروں نشستیں تلاوت کلام پاک اور نعت پاک سے آغاز ہوئیں، ان کی صدارت و نظامت مندرجہ ذیل حضرات کے سپرد تھیں،

پہلی نشست: حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا ازہری قادری مدظلہ العالی، صدر اور حضرت مفتی قاضی محمد شہید عالم رضوی، جامعہ نوریہ، ناظم۔
دوسری نشست: محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ امجدی قادری رضوی بانی جامعہ امجدیہ گھوسی، صدراور حضرت مفتی اختر حسین صاحب، ناظم۔
تیسری نشست: حضرت علامہ مفتی شبیر حسن صاحب قبلہ، صدر اور حضرت مفتی محمد رفیق عالم صاحب، ناظم۔
چوتھی نشست: حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا مد ظلہ العالی، صدر اور حضرت مفتی اختر حسین صاحب، ناظم۔

پہلی نشست کا آغاز ہونے کے بعد حضرت علامہ محمد عسجد رضا خاں قادری ناظم شرعی کونسل کا خطبہ استقبالیہ مندوبین کرام کو تقسیم کیا گیا اس کے بعد حضور تاج الشریعہ مد ظلہ العالی کا تحریر کرایا ہوا خطبہ صدارت تقسیم کیا گیا پھر حضرت محدث کبیر نے تمہیدی کلمات بیان فرمائے ساتھ ہی یہ بیان فرمایا کہ چونکہ ایک نشست سابقہ سیمینار سے کم ہے لہٰذا آپ لوگ اپنے اپنے طور پر خطبہ صدارت اور استقبالیہ پڑھ لیں۔ بعدہ، طے شدہ موضوعات پر مندوبین کرام نے کھلے ماحول میں بحثیں کیں اور ان کے فیصلے بعد بحث و تمحیص نوٹ کرلئے گے جن پر اراکین فیصلہ بورڈ کے ساتھ جملہ مندوبین کرام کے دستخط بھی ثبت ہیں۔ ضمنی طور پر مندوبین کرام کی توجہ دلانے کے بعد چلتی ٹرین اور ہوائی جہاز کے مسئلے پر تھوڑی دیر گفتگو ہوئی اور یہ طے ہوا کہ جو فیصلہ شرعی کونسل اس تعلق سے پہلے کر چکی ہے وہی حق و درست ہے اور اس سے عدول کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا اسے بھی ایک نوٹ کے اضافے کے ساتھ برقرار رکھا گیا۔ ان فیصلوں کی کمپوزڈ کاپی بھی تمام مندوبین کرام کی خدمت میں پیش کردی گئی۔ وہ فیصلے مندرجہ ذیل ہیں، ملاحظہ فرمائیں:

آرٹی فیشیل (مصنوعی) زیورات کا شرعی فیصلہ:


١۔ سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات کا استعمال ناجائز و مکروہ تحریمی ہے۔

رد المحتار میں ہے:

”والتختم بالحدید والصفر والنحاس والرصاص مکروہ للرجال والنساء”۔ [ج٩، ص٥١٨، کتاب الحظر والاباحۃ، مکتبہ زکریا]


اور اگر ان زیورات پر سونے یا چاندی کا خول چڑھا دیا جاے تو جائز۔ فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:

”لابأس بأن یتخذ خاتم حدید قد لوی علیہ او البس بفضۃ حتیٰ لا یری”۔ [ج٨، ص١٢٧، مکتبہ زکریا]


اور اگر ان پر محض سونے یا چاندی کا پانی چڑھایا گیا ہو تو ان کا پہننا نا جائز۔ اس لے کہ سونے کا پانی یا چاندی کی قلعی کردینے سے اصل شئی کا حکم نہیں بدلتا۔

تبیین الحقائق میں ہے:

”اما التمویہ الذی لا یخلص فلا بأس بہ بالاجماع لأنہ مستھلک فلا عبرۃ ببقاہ لوناً”۔ [ج٧، ص٢٦، پوربندر]


فتاویٰ رضویہ میں ہے:

سوال: وہ اشیاء جن پر سونے چاندی کا پانی چڑھا ہو جسے گلٹ کہتے ہیں مرد استعمال کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب: کرسکتا ہے، سونے یا چاندی کا پانی وجہ ممانعت نہیں، ہاں! اگر وہ شی فی نفسہٖ ممنوع ہو تو دوسری بات ہے جیسے سونے کا ملمع کی ہوئی تانبے کی انگوٹھی۔  [ج٩، ص١٣٤]


٢۔ زیورات کا استعمال مرتبہ زینت میں ہے اور محض زینت کے لئے کسی ممنوع شرعی کی رخصت و تخفیف نہیں ہو سکتی اس لے سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات کا استعمال مکروہ تحریمی ہی رہے گا خواہ ان پر سونے یا چاندی کا پانی وقلعی چڑھائی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے:

”زینت و فضول کے لے کسی ممنوع شرعی کی اصلاً رخصت نہ ہو سکنا بھی ایضاح سے غنی، جس پر اصل اول بدرجہ اولیٰ دلیل وافی ورنہ احکام معاذ اللہ ہوائے نفس کا بازیچہ ہو جائیں”۔ [ج٩، ص٢٠٠]


٣۔ وہ زیورات جن پر سونے یا چاندی کی ملمع سازی کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو ان کی خرید و فروخت مکروہ تحریمی ہے۔ البتہ بیچنے کی ممانعت ویسی نہیں جیسے پہننے کی ممانعت ہے۔

درمختار میں ہے:

”فاذا ثبت کراہۃ لبسھا للتختم ثبت کراھۃ بیعھا لما فیہ من الاعانۃ علیٰ ما لا یجوز۔ وکل ما ادی الیٰ مالایجوز لایجوز”۔ [ج٩، ص٥١٨، مکتبہ زکریا]


فتاویٰ رضویہ میں ہے:

مسئلہ: ایک شخص لوہے اور پیتل کا زیور بیچتا ہے اور ہندو مسلم سب خریدتے ہیں اور ہر قوم کے ہاتھ وہ بیچتا ہے غرض کہ یہ وہ جانتا ہے کہ جب مسلمان خرید کریںگے تو اس کو پہنیں گے تو ایسی چیزوں کا فروخت کرنا مسلمان کے ہاتھ جائز ہے یا نہیں؟

جواب: مسلمان کے ہاتھ بیچنا مکروہ تحریمی ہے۔  [ج٩، ص١٣٣، نصف آخر]


قال ابن الشحنہ:

”الا ان المنع فی البیع اخف منہ فی اللبس اذ یمکن الانتفاع بھا فی غیر ذالک ویمکن سبکھا وتغییر ھیتھا”۔ [رد المحتار، ج٩، ص٥١٩، مکتبہ زکریا]


البتہ اس سے حاصل شدہ مال مال خبیث نہیں بلکہ مال طیب ہے اس پر زکوٰۃ واجب اور اسے کسی بھی جائز کام میں خرچ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی نظیر بیع وقت اذان جمعہ ہے کہ ایسی بیع مکروہ ہے مگر مبیع و ثمن حلال ہیں۔

٤۔ جن زیورات کا پہننا مکروہ ہے ان کا بنانا اور بنوانا بھی مکروہ۔

در مختار میں ہے:

”فاذا ثبت کراہۃ لبسھا للتختم ثبت کراھۃ بیعھا لما فیہ من الاعانۃ علیٰ ما لا یجوز۔ وکل ما ادی الیٰ مالایجوز لایجوز”۔  [ج٩، ص٥١٨، مکتبہ زکریا]


اور کافر نوکر سے مسلمان کے ہاتھ فروخت کرانا مکروہ و ناجائز لما فیہ من الاعانۃ علیٰ المعصیۃ کما مر۔ البتہ کفار کے ہاتھ بیچنے میں حرج نہیں ہے۔

٥۔ جن صورتوں میں ان زیورات کی خرید و فروخت اور ان کا استعمال جائز نہیں ہے ان کے جواز کا کوئی حیلہ تلاش کرنا بے سود ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

قصر صلوٰۃ کے متعلق فیصلہ جات:


نوٹ: نمبر۔١، ٢، ٤ / کے سوالات زیر تحقیق ہیں۔

٣۔ امام اہل سنت اور صدر الشریعہ علیہما الرحمہ نے مسافت سفر 57-3 / 5  / میل بیان فرمائی ہے موجودہ کلومیٹر کے مطابق باتفاق مندوبین اس کی مقدار 92.698 / کلومیٹر طے ہوئی جو 92-7 / 10 / کلومیٹر ہوئے۔

٥۔ سفر شرعی کا تحقق منتہائے آبادی سے نکلنے پر ہوگا۔ یوں ہی جس شہر میں داخل ہونا ہے اس کی آبادی میں داخل ہونا مراد ہے جائے قیام پر پہنچنے کا اعتبار نہیں۔

ہدایہ میں ہے:

”واذا فارق المسافر بیوت المصر صلیٰ رکعتین لأن الاقامۃ تتعلق بدخولھا فیتعلق السفر بالخروج عنہا فیہ الأثر عن علی رضی اللہ عنہ لو جاوزنا ھٰذا الخص لقصرنا”۔ [ج١، ص١٤٦]


جد الممتار میں ہے: ”ویفیدہ ایضاً تصریحہم جمیعا بتحقق السفر بالخروج من عمران البلد”۔ [ج١، ص٣٥٩، مکتبہ عزیزیہ دکن]

٦۔ وطن اصلی کے علاوہ کسی اور مقام کے وطن اصلی ہونے کے لے اس مقام پر اقامت کی نیت صادقہ یعنی عزم مصمم درکار ہے۔ محض مکان اور راشن کارڈ وغیرہ بنا لینا کافی نہیں یہ سب رہاشی سہولتوں کے لئے ہے۔

٧۔ باتفاق مندوبین یہ طے ہوا کہ منیٰ، مزدلفہ اور عرفات باب اقامت میں الگ الگ آبادی کا حکم رکھتے ہیں۔ کثرت آبادی کے باوجود منیٰ اور شہر مکہ کے مابین بقدر غلوہ پہاڑیوں کے حال ہونے کی وجہ سے دونوں آبادیوں میں اتصال نہیں لہٰذا دونوں ایک شہر کے حکم میں نہیں ہوںگے۔ اس مسئلہ پر روشنی درج ذیل عبارت سے پڑتی ہے:

فتح القدیر میں ہے:

”وفی فتاویٰ قاضیخان فصل فی الفناء فقال اِن کان بینہ وبین المصر أقل من قدر غلوۃ ولم یکن بینھما مزرعۃ یعتبر مجاوزۃ الفناء أیضاً وان کان بینھما مزرعۃ أو کانت المسافۃ بینہ وبین المصر قدر غلوۃ یعتبر مجاوزۃ عمران المصر ھٰذا”۔ [ج٢، ص٢٣]


٨۔ عذر شرعی کے بغیر بیٹھ کر نماز پڑھنے سے نماز نہیں ہوگی اور عذر شرعی کا مطلب بہار شریعت کی روشنی میں یہ ہے:

”کھڑے ہونے سے محض کچھ تکلیف ہونا عذر نہیں بلکہ قیام اس وقت ساقط ہوگا کہ کھڑا نہ ہو سکے یا سجدہ نہ کر سکے یا کھڑے ہونے یا سجدہ کرنے میں زخم بہتا ہے یا کھڑے ہونے میں قطرہ آتا ہے یا چوتھائی ستر کھلتا ہے، یا قرأت سے مجبور محض ہو جاتا ہے۔ یونہی کھڑا ہو سکتا ہے مگر اس سے مرض میں زیادتی ہوتی ہے یا دیر میں اچھا ہوگا یا ناقابل برداشت تکلیف ہوگی تو بیٹھ کر پڑھے”۔ [ج٣، ص٥٨]


اگر کسی سہارے سے کھڑا ہو سکتا ہے اگرچہ اللہ اکبر کہنے کی مقدار ہی سہی تو اتنی دیر کھڑا ہونا فرض ہے اس لے مذکورہ حالات کے سوا زمین یا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے سے نماز نہیں ہوگی اور قیام و رکوع وسجود پر قادر نہ ہو مگر زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہو تو کرسی پر بیٹھ کر نماز ہو جائے گی مگر ایسا ہرگز نہ کرے تاکہ شبہہ تفاخر سے محفوظ رہے بلکہ زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھے اور اس صورت میں رکوع و سجود سر کے اشارہ سے کرے اور اگر مسجد میں جماعت سے نماز پڑھنے میں کرسی استعمال کرنی ہی پڑے تو صفوں کے کنارے کرسی رکھی جائے تاکہ مصلیوں کے توحش کا سبب نہ بنے اور وسط صف میں زیادہ مکان نہ گھیرے بلکہ اگر ممکن ہو تو کرسیوں کی قطار قائمین کی صفوں سے پیچھے رکھی جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

ممالک بعیدہ میں عشا و فجر کے اوقات کا شرعی حکم:


(١) باتفاق مندوبین یہ طے پایا کہ دنیا کے جن علاقوں میں نماز عشا کا وقت نہیں ملتا وہاں کے مسلمانوں پر بھی نماز عشاء فرض ہے۔

(٢-٣) اصل حکم یہ ہے کہ ان مقامات پر نماز عشا کی قضا کی جائے مگر تصریحات فقہاء میں اس کا ذکر نہیں کہ کب قضا کی جائے۔ مندوبین کرام نے بحث و تمحیص کے بعد یہ طے کیا کہ جو لوگ قول صاحبین کے مطابق بعد غروب شفق احمر نماز عشا پڑھ لیتے ہوں انہیں اصل حکم یعنی دربارہ وقت عشا قول امام اعظم بتا دیا جائے اور اگر بتانے کے باوجود نہ مانیں تو ان سے تعرض نہ کیا جائے۔

(٤) اگر لوگوں نے ان مقامات پر قول صاحبین پر عمل کرتے ہوے نماز عشا پڑھ لی تو ان کے ذمہ سے قول صاحبین کے مطابق فرض ساقط ہو جائے گا اور اس نماز کے اعادہ کا حکم نہ ہوگا ۔

(٥) ان مقامات پر شفق ابیض یا طلوع صبح صادق کے بعد نماز عشا پڑھنے کے لئے قضا یا ادا کی نیت کرنے کی ضرورت نہیں، مطلق نیت کافی ہے۔

٦،٧ اور ١٠ / نمبر کے سوالات مزید تحقیق طلب ہیں۔

(٨) ان مقامات پر روزہ کے لئے سحری کھانے والے بہرحال طلوع صبح صادق سے قبل سحری سے فارغ ہو جائیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

”کلوا واشربوا حتیٰ یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود”۔ [سورۃ البقرۃ]


(٩) جن مقامات پر غروب شمس کے ساتھ ہی سورج طلوع ہو جائے وہاں ہر روزہ کی قضا ہے اور جن مقامات پرغروب وطلوع صبح صادق کے درمیان اتنا قلیل وقفہ ملتا ہو کہ بقدر بقائے صحت و قوت کھانا نہ کھا سکے تو جو شخص ناغہ کر کے روزہ رکھنے کی استطاعت رکھتا ہو تو جتنے دن روزہ رکھ سکے رکھے بقیہ کی قضا کرے اور جو شخص ناغہ کر کے روزہ نہ رکھ سکے تو سب روزوں کی قضا کرے۔

(١١) تینوں موقف میں پہلا موقف یعنی قول صاحبین پر عشا پڑھ لینے کی رائے کے متعلق جواب نمبر ٢ / اور ٣ / ملاحظہ کریں۔ رہا دوسرا اور تیسرا موقف تو یہ فقہ حنفی کے مخالف ہیں لہٰذا یہ ناقابل قبول ہیں۔

(١٢) کریمہ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق چاروں مذکورہ صورتیں فقہ حنفی کے مخالف ہونے کی بنا پر ناقابل قبول ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

ہوائی جہاز و ٹرین پر نماز کا مسئلہ:


شرعی کونسل آف انڈیا کے دسویں فقہی سیمینار میں مندوبین کرام کے درمیان ہوائی جہاز اور ٹرین پر نماز کے مسئلے پر بحث ہوئی اور یہ طے پایا کہ شرعی کونسل کے پہلے اور چھٹے فقہی سیمینار میں جو فیصلہ کیا جا چکا ہے وہی فقہ حنفی میں صحیح و درست ہے، لہٰذا اسی فیصلے کو برقرار رکھا جاتا ہے، مسلمان حنفی مقلدین اسی حکم پر عمل کریں۔

(١) فضاء میں اڑتے جہاز پر نماز پڑھنے کا یہی حکم ہے جو کشتی پر نماز پڑھنے کا ہے یعنی قبلہ رو ہو کر نماز پڑھے، رکوع و سجدہ کے ساتھ بیٹھ کر بھی پڑھنے کی اجازت ہے مگر افضل یہ ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے اور اعادہ واجب نہیں۔

(٢) ٹھہرے ہوے جہاز پر نماز پڑھنے کا وہی حکم ہے جو تخت پر نماز پڑھنے کا ہے۔

(٣) ٹرینوں پر نماز کے جواز و عدم جواز سے متعلق بحثوں کے بعد طے ہوا کہ ٹرینوں کا روکنا و چلانا اختیار عبد میں ہے اس میں اعذار معتبرہ فی التیمم میں سے کوئی عذر متحقق نہیں ہے کہ چلتی ٹرینوں پر فرض و واجب ادا کرنے سے اسقاط فرض وواجب ہو سکے۔ لہٰذا وقت جا رہا ہو تو جس طرح پڑھنا ممکن ہو پڑھ لے جب موقع ملے اسے دوبارہ پڑھے۔

اعلیٰ حضرت کے زمانے سے لے کر آج تک ٹرینوں کے چلنے، رکنے اور ٹرینوں سے اترنے اور اس پر چڑھنے وغیرہ کے حالات میں کوئی تغیر نہیں ہوا ہے اس لئے ان کے فتوے سے عدول کی کوئی وجہ معقول نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

نوٹ: چلتی ٹرین پر فرض و واجب نمازوں کے عدم جواز کا فتویٰ زمانہ اعلیٰ حضرت سے اب تک باتفاق علمائے اہل سنت بلا انکار و اختلاف سب کے نزدیک مقبول و معمول رہا ہے اور بے وجہ شرعی اس کی مخالفت موجب تفریق و ہیجان ہونے کے ساتھ فساد نماز کا سبب بھی ہے۔ اور ایک امر متفق علیہ کا خلاف بھی ہے۔

آخری مجلس میں مندوبین کرام نے تحریری تأثر بھی عنایت فرمایا اور مشائخ کرام نے بھی تأثراتی کلمات ارشاد فرمائے اور یہ پر رونق مجلس ٢٦ / مئی ٢٠١٣ء کو حضور تاج الشریعہ مد ظلہ العالی کی دعا و صلوٰۃ و سلام پر اختتام پذیر ہو گئی۔

Download as: PDF | InPage
— — —
محمد یونس رضا مونسؔ اویسی
رکن شرعی کونسل آف انڈیا، بریلی شریف
٢٧  /  مئی ٢٠١٣ء
Advertisements